ایران کی قیادت نے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اعلان کردہ جنگ بندی میں توسیع کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے ایک ممکنہ فوجی کارروائی کی تیاری قرار دیا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کے ایک مشیر نے امریکی اقدام کو "Surprise Attack" کی حکمت عملی سے تعبیر کیا اور اس کے جواب میں فوجی ردعمل کا مطالبہ کیا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق، ایران اس پیش رفت کو اشتعال انگیزی کے طور پر دیکھ رہا ہے، خاص طور پر اس تناظر میں کہ امریکہ نے جنگ بندی کے ساتھ ساتھ ایرانی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
منگل کے روز صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ جنگ بندی میں توسیع کی جا رہی ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کے لیے ناکہ بندی جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے تہران کو ایک "متحد تجویز" پیش کرنا ہوگی۔
اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم Truth Social پر جاری بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان کی قیادت کی درخواست اور ایران کے اندرونی اختلافات کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی حکومت کے اندر تقسیم کے باعث امریکہ نے عارضی طور پر حملے روکنے اور جنگ بندی بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
دوسری جانب، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اسلام آباد کا مجوزہ دورہ منسوخ کر دیا، جہاں ایران کے ساتھ مذاکرات کا دوسرا دور متوقع تھا۔ وائٹ ہاؤس حکام کے مطابق، امریکہ اس وقت تہران کے باضابطہ ردعمل کا انتظار کر رہا ہے۔
ایران نے اب تک مذاکرات میں شرکت کی تصدیق نہیں کی اور واضح کیا ہے کہ کسی بھی بات چیت سے پہلے امریکہ کو ناکہ بندی ختم کرنا ہوگی۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ایک "جنگی عمل" کے مترادف ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تجارتی جہازوں پر حملے اور عملے کو یرغمال بنانا صورتحال کو مزید سنگین بنا رہا ہے۔