آندھرا پردیش قانون سازاسمبلی کا بجٹ اجلاس کا آج سے آغاز ہو گیا ہے۔ پہلے دن آج گورنر عبدالنذیر نے دونوں ایوانوں سے خطاب کیا۔ ریاست کا سالانہ بجٹ رواں ماہ کی 14 تاریخ کو دونوں ایوانوں میں پیش کیا جائے گا۔ حکمراں پارٹی 23 ترجیحی مسائل جیسے تروملا لڈو میں ملاوٹ، سرمایہ کاری اور اصلاحات پر بات چیت کیلئے تیار ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ سیشن 12 مارچ تک جاری رہنے کا امکان ہے۔
دونوں ایوانوں سے خطاب کرتے ہوئے گورنر سید عبدلنذیر نے کہاکہ حکومت نے اپنی حکمرانی کا آغاز تقسیم کے مسائل کے ساتھ ساتھ ورثے میں ملنے والی مشکلات سے کیا۔ انہوں نے کہاکہ تقسیم کے بعد برسراقتدار آنے والی حکومت نے کی تھی اسے گذشتہ حکمرانوں نے تباہ کردیا۔ گورنر نے کہاکہ نظام کمزور ہونے کی وجہ سے ترقی رک گئی اور مالی مشکلات میں اضافہ ہوگیا۔ تاہم موجودہ حکومت نئے عزم کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔ اس دوران اجلاس کی خاص بات یہ رہی کہ گیارہ ارکان پر مشتمل وائی ایس آر کانگریس پارٹی نے گورنر کے خطاب تک شرکت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
قبل ازیں آندھراپردیش اسمبلی کے اسپیکر ، کونسل کے چیئرمین ایم راجو، چیف منسٹر چندرابابو نائیڈو اور وزیر خزانہ پی کیشو نے بجٹ اجلاس کے موقع پر قانون ساز اسمبلی میں گورنر سید عبدالنذیر کا خیرمقدم کیا۔ اس موقع پر گورنر کو سلامی بھی پیش کی گئی۔ واضح رہے کہ آج سے شروع ہونے والا بجٹ اجلاس کے 12 مارچ تک جاری رہنے کی اطلاعات ہیں۔
وہیں آندھراپردیش کے چیف منسٹر چندرابابو نائیڈو، وزراء اور ایم ایل ایز نے وینکٹاپلم میں تلگودیشم کے بانی اور متحدہ آندھراپردیش کے سابق چیف منسٹر این ٹی آر کے مجسمہ پر پھول چڑھائے۔ بعد ازاں وزیراعلیٰ، وزراء اور ایم ایل ایز اسمبلی کیلئے روانہ ہوگئے۔چندرابابو نائیڈو نے کہاکہ این ٹی آر کی خدمات کو تلگو عوام کبھی فراموش نہیں کرسکتی۔
سابق چیف منسٹر اوروائی ایس آر سی پی کے سربراہ وائی ایس جگن موہن ریڈی نے بجٹ سیشن کے پہلے دن احتجاجی مارچ کی قیادت کی۔ اس موقع پر وائی ایس آر کانگریس کے ارکان اسمبلی اور ایم ایل سیز نے احتجاج کرتے ہوئے حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔ احتجاج کے دوران وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے لیڈروں اور کارکنوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ واضح رہے کہ اسمبلی اجلاس کا مسلسل بائیکاٹ کرنے والی وائی ایس آر کانگریس کے ارکان اسمبلی آج گورنر کے خطاب کیلئے اسمبلی پہنچے۔