افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ایک بڑا دھماکہ ہوا ،جس میں ایک چینی شہری اور چھ افغان شہریوں سمیت کم از کم 7 افراد ہلاک ہو گئے، جبکہ متعدد دیگر زخمی ہوئے ہیں ،جن میں ایک بچہ بھی شامل ہے۔یہ دھماکہ کابل کے شہرِ نو (Shahr-e-Naw) علاقے میں ایک ہوٹل کے اندر واقع چینی ریستوران میں ہوا۔ یہ علاقہ کابل کا تجارتی مرکز ہے جہاں بڑی عمارتیں، شاپنگ کمپلیکسز اور سفارت خانے واقع ہیں اور اسے شہر کے سب سے محفوظ علاقوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
کابل پولیس کے ترجمان خالد زدران کے مطابق دھماکہ گل فروشِی گلی میں "چائنیز نوڈل" نامی ریستوران کے قریب ہوا جو چینی مسلمانوں اور افغان شراکت داروں کی مشترکہ ملکیت تھا۔ ریستوران کے مالک میں سے ایک چینی مسلمان عبدالمجید بھی ہلاکتوں میں شامل تھا۔
دھماکے کی ذمہ داری اسلامک اسٹیٹ خراسان (ISIS-K) نے قبول کر لی ہے۔ گروپ کے نیوز ایجنسی عمق نے دعویٰ کیا کہ یہ حملہ چینی حکومت کی طرف سے ایغور مسلمانوں کے ساتھ "بڑھتے جرائم" کے جواب میں کیا گیا۔
طالبان حکومت کے اندرونی امور کے ترجمان عبدالمتین قانع نے تصدیق کی کہ واقعے میں ہلاکتیں اور زخمی ہوئے ہیں، اور تحقیقات جاری ہیں۔ ایک اطالوی این جی او ایمرجنسی کے مطابق ان کے کابل میں قائم سرجیکل سنٹر میں دھماکے کے بعد 20 افراد لائے گئے، جن میں سے 7 موقع پر ہی ہلاک تھے۔
چینی ہوٹل پر مشتبہ آئی ای ڈی حملہ:
یہ دھماکہ IED (امپوروائزڈ ایکسپلوسو ڈیوائس) سے کیا گیا سمجھا جا رہا ہے، تاہم آخری وجہ کی تصدیق ابھی باقی ہے۔یاد رہے کہ 2021 میں طالبان کی حکومت بحال ہونے کے بعد مجموعی طور پر بڑے پیمانے پر دھماکے کم ہوئے تھے، لیکن ISIS-K جیسے گروپس اب بھی فعال ہیں اور وقتاً فوقتاً حملے کرتے رہتے ہیں۔یہ واقعہ کابل میں غیر ملکیوں، خاص طور پر چینی شہریوں اور سرمایہ کاروں کے لیے سیکیورٹی خطرات کو ایک بار پھر اجاگر کرتا ہے۔