افغانستان نے جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر سے متعلق پاکستان کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسعود اظہر افغانستان میں موجود نہیں ہے۔ افغان وزارت خارجہ کے مطابق اس کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لیے استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔ پاکستان کی جانب سے ماضی میں متعدد بار یہ دعویٰ کیا جاتا رہا ہے کہ جیش محمد کا بانی مسعود اظہر افغانستان فرار ہو چکا ہے اور وہیں سے اپنی سرگرمیاں چلا رہا ہے۔ تاہم افغان حکام کے حالیہ بیان کے بعد اس دعوے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان کی دہشت گردی کی مالی معاونت اور انسدادِ دہشت گردی سے متعلق کوششوں کا بین الاقوامی سطح پر جائزہ لیا جا رہا ہے۔ پاکستان 2018 سے 2022 تک فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (FATF) کی گرے لسٹ میں شامل رہا تھا۔ اس دوران اسے دہشت گرد تنظیموں کی مالی معاونت روکنے اور ان کے خلاف کارروائی سے متعلق متعدد اقدامات کرنے پڑے تھے۔
2022 میں پاکستان کو گرے لسٹ سے نکال دیا گیا، تاہم ایشیا/پیسفک گروپ آن منی لانڈرنگ (APG) کی جانب سے بعض معاملات میں پاکستان کی پیش رفت کا جائزہ جاری رہنے کی بات کہی گئی تھی۔ ان معاملات میں دہشت گرد تنظیموں اور ان سے وابستہ افراد کے خلاف کارروائی بھی شامل رہی ہے۔
بھارت کی موسٹ وانٹیڈ فہرست میں مسعود اظہر
مسعود اظہر بھارت کی موسٹ وانٹیڈ فہرست میں شامل ہے۔ بھارتی حکام اسے کئی دہشت گردانہ حملوں کی منصوبہ بندی سے جوڑتے رہے ہیں، جن میں 2001 کا پارلیمنٹ حملہ، 2016 کا پٹھانکوٹ ایئربیس حملہ اور 2019 کا پلوامہ حملہ شامل ہیں۔ ممبئی حملوں کے معاملے میں بھی بھارت کی جانب سے جیش محمد اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے۔
مسعود اظہر کو مئی 2019 میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے عالمی دہشت گرد قرار دیا تھا۔ بھارت اس کے خلاف بین الاقوامی سطح پر مسلسل کارروائی کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔ افغان وزارت خارجہ کے تازہ بیان کے بعد اب مسعود اظہر کے موجودہ مقام اور اس سے متعلق پاکستان کے سابقہ دعووں پر نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔ تاہم افغان حکام کے بیان کے علاوہ اس وقت مسعود اظہر کی موجودہ رہائش یا مقام کے بارے میں آزادانہ طور پر تصدیق شدہ معلومات واضح نہیں ہیں۔