کرناٹک ہائی کورٹ نے اشرف نامی شخص کی موب لنچنگ کے ملزم کو ضمانت دے دی ہے۔ اس کے بعد ایک بار پھر اقلیتوں کے خلاف تشدد اور جرائم میں ملوث ملزمان کے خلاف تفتیشی ایجنسیوں کے کردار پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ یہ واقعہ 27 اپریل 2025 کو منگلورو میں پیش آیا تھا، جہاں ہندوتوا تنظیموں سے منسلک مبینہ ملزمان نے صرف ایک مخصوص برادری سے تعلق کی وجہ سے ایک شخص کو پیٹ پیٹ کر قتل کر دیا۔منگلورو میں موب لنچنگ کا شکار 36 سالہ ملیالی مسلم نوجوان اشرف تھا۔ معلومات کے مطابق اشرف ذہنی طور پر بیمار تھے۔
نتیش کمار اس کیس میں ملزم نمبر چار ہے۔ اس کے خلاف منگلورو دیہی پولیس نے کرائم نمبر 37/2025 کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔ عدالت نے کہا کہ کیس میں چارج شیٹ داخل ہو چکی ہے اور اب ملزم سے حراستی تفتیش کی ضرورت نہیں ہے۔ عدالت نے اپنے حکم میں یہ بھی کہا کہ کچھ ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے متاثرہ پر ڈنڈوں سے حملہ کیا، جبکہ کچھ نے ہاتھوں اور لاتوں گھونسوں سے مار پیٹ کی۔
پراسیکیوشن کی طرف سے کہا گیا کہ نتیش کمار نے ایک دوسرے ملزم کے ساتھ مل کر مرچ پاؤڈر خریدا اور اسے اشرف پر پھینکا، ساتھ ہی دوسروں کو حملہ کرنے کے لیے اکسایا۔ دوسری طرف دفاع کی طرف سے دلیل دی گئی کہ لگائے گئے الزامات ایسے نہیں ہیں جن کی بنیاد پر ملزم کو مسلسل جیل میں رکھا جائے، خاص طور پر جب سیشن کورٹ پہلے ہی کئی شریک ملزمان کو ضمانت دے چکا ہے۔
کون تھا اشرف :کیا ہے پورا معاملہ؟
اشرف اصل میں کیرل کے کوٹٹکل کے رہنے والے تھے، لیکن وہ اپنے خاندان کے ساتھ وایاناڈ ضلع کے پلپلّی میں رہائش پذیر تھے۔ وہ کباڑ جمع کرنے کا کام کرتے تھے۔ اس کے علاوہ خاندان کی روزی روٹی چلانے کے لیے کئی دیگر کام بھی کرتے تھے۔ موب لنچنگ کا یہ واقعہ گزشتہ سال 27 اپریل 2025 کو منگلورو میں پیش آیا تھا۔ اشرف منگلورو کے کودوپو علاقے میں واقع بترا کلّورتھی مندر کے قریب ایک مقامی کرکٹ میچ دیکھ رہے تھے، تبھی ملزمان نے ان پر حملہ کر دیا۔
مکتوب میڈیا میں شائع رپورٹ کے مطابق، اس حملے کا مرکزی ملزم رویندر نائک نامی شخص ہے ، جو بھارتیہ جنتا پارٹی کے کارپوریشن کونسلر سنگیتا نائک کے شوہر ہیں۔ حملے میں "سمراٹ گائز" نامی ہندوتوا تنظیم کے لوگ بھی شامل بتائے جا رہے ہیں۔ الزام ہے کہ اشرف کو کرکٹ بیٹ اور دیگر ہتھیاروں سے بری طرح پیٹا گیا، جس سے وہ شدید زخمی ہو گئے اور موقع پر ہی گر پڑے۔
موب لنچنگ کی اس خوفناک واردات میں شامل ملزمان نے اپنے دفاع میں ذہنی طور پر غیر صحت مند اشرف پر سنگین الزامات لگائے۔ ملزمان کا دعویٰ ہے کہ اشرف نے مبینہ طور پر 'پاکستان زندہ باد' کے نعرے لگائے تھے، جس کے بعد یہ حملہ کیا گیا۔ تاہم، اشرف کے خاندان، سماجی کارکنوں اور کئی رہنماؤں نے اس دعوے کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ کہانی ہندوتوا تنظیموں کی طرف سے فرقہ وارانہ تشدد کو جائز ٹھہرانے کے لیے گھڑی گئی ہے۔