مہاراشٹر کے ضلع بیڑ سے ایک ایسی متاثر کن اور جذباتی کہانی سامنے آئی ہے، جس نے ہر کسی کا دل چھو لیا۔ 47 سالہ رمابائی رندھیر نے اپنی دو بیٹیوں کی تعلیم کے لیے ننگے پاؤں میراتھن میں حصہ لیا اور اپنی ہمت، عزم اور جذبے کے بل پر مقابلہ جیت لیا۔ جیت کے بعد انہیں 3 ہزار روپے کا انعام دیا گیا، جسے انہوں نے اپنی بیٹیوں کی تعلیم پر خرچ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
رمابائی کی زندگی آسان نہیں رہی۔ شوہر کے انتقال کے بعد گھر اور بچوں کی تمام ذمہ داریاں ان کے کندھوں پر آ گئیں۔ ایک ماں کے طور پر انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور محدود وسائل کے باوجود اپنی دونوں بیٹیوں کی تعلیم جاری رکھنے کے لیے مسلسل جدوجہد کرتی رہیں۔گھر کا خرچ چلانے کے لیے رمابائی ایک اکیڈمی میں باورچی کے طور پر کام کرتی ہیں۔ ان کی ایک بیٹی بی ایس سی کی تعلیم حاصل کر رہی ہے، جبکہ دوسری بیٹی پولیس میں بھرتی ہونے کی تیاری کر رہی ہے۔ رمابائی کی سب سے بڑی خواہش یہی ہے کہ ان کی بیٹیاں اچھی تعلیم حاصل کریں اور اپنے پیروں پر کھڑی ہو سکیں۔
رمابائی کی کامیابی کو خاص بنانے والی بات یہ ہے کہ انہوں نے اس میراتھن کے لیے کوئی خصوصی تربیت نہیں لی تھی۔ روزمرہ کی زندگی میں کام، گھر اور بچوں کی ذمہ داریوں کے درمیان دوڑ دھوپ ہی ان کی زندگی کا حصہ بن چکی تھی۔ جب میراتھن میں حصہ لینے کا موقع ملا تو انہوں نے ہمت دکھائی اور ننگے پاؤں دوڑنے کے لیے میدان میں اتر گئیں۔ شاید ان کے پاؤں میں جوتے نہیں تھے، لیکن ان کے دل میں اپنی بیٹیوں کے مستقبل کے خواب ضرور تھے۔رمابائی نے پوری طاقت اور حوصلے کے ساتھ میراتھن مکمل کی اور سب کو حیران کرتے ہوئے مقابلہ جیت لیا۔ ان کی جیت صرف ایک کھیل کی کامیابی نہیں بلکہ ایک ماں کی جدوجہد اور قربانی کی جیت تھی۔
جیت کے بعد رمابائی کے الفاظ نے وہاں موجود لوگوں کو جذباتی کر دیا۔ انہوں نے کہا:"میں ہر روز اپنے بچوں اور اپنے کام کے لیے دوڑتی ہوں، لیکن آج میں اپنے لیے دوڑی ہوں۔"یہ الفاظ ایک ایسی ماں کی پوری زندگی کی کہانی بیان کرتے ہیں، جو ہر دن اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔3 ہزار روپے کا انعام شاید بظاہر ایک معمولی رقم ہو، لیکن رمابائی کے لیے یہ رقم صرف انعام نہیں بلکہ ان کی بیٹیوں کے خوابوں کو پورا کرنے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔ننگے پاؤں میراتھن جیتنے والی رمابائی نے ثابت کر دیا کہ اگر حوصلہ مضبوط ہو اور مقصد اپنے بچوں کا مستقبل ہو تو زندگی کی مشکل سے مشکل دوڑ بھی جیتی جا سکتی ہے۔