اترپردیش کے پریاگ راج میں گنگا اور یمنا کے پانی کی سطح میں مسلسل اضافے کے باعث سیلابی صورتحال سنگین ہوتی جا رہی ہے۔ شہر کے بغدا علاقے میں دریا کا پانی رہائشی علاقوں تک پہنچ گیا ہے، جس کے بعد مقامی لوگوں کے ساتھ ساتھ وہاں رہنے والے طلباء کی مشکلات بھی بڑھ گئی ہیں۔ کئی علاقوں میں پانی بھرنے سے روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔
بغدا اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں بڑی تعداد میں ایسے طلباء رہتے ہیں جو مختلف شہروں اور اضلاع سے پریاگ راج آ کر مسابقتی امتحانات کی تیاری کرتے ہیں یا اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ پریاگ راج طویل عرصے سے تعلیم اور مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری کا ایک اہم مرکز رہا ہے، جہاں ہزاروں نوجوان اپنے مستقبل کے خواب لے کر پہنچتے ہیں۔ لیکن اب سیلابی پانی ان کی زندگی اور پڑھائی، دونوں کے لیے بڑا مسئلہ بن گیا ہے۔ اتوار کی شام سے پانی کی سطح میں تیزی سے اضافہ شروع ہوا، جس کے بعد کئی طلباء نے اپنے کمروں اور رہائشی عمارتوں کے اطراف سیلابی پانی داخل ہوتے دیکھا۔ بعض طلباء کا کہنا ہے کہ اگر پانی کی سطح اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو انہیں اپنے کمرے خالی کرکے محفوظ مقامات پر منتقل ہونا پڑ سکتا ہے۔
پڑھائی اور امتحانات کی تیاری متاثر
سیلاب کی وجہ سے طلباء کا روزانہ کا معمول مکمل طور پر متاثر ہو گیا ہے۔ پانی بھرنے کے باعث نہ صرف آمدورفت میں مشکلات پیش آ رہی ہیں بلکہ بجلی، انٹرنیٹ اور دیگر بنیادی سہولیات پر بھی اثر پڑنے کا خدشہ ہے۔ ایسے حالات میں طلباء کے لیے باقاعدگی سے کلاسز لینا اور اپنی پڑھائی جاری رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔کئی طلباء نے بتایا کہ ان کے آئندہ مسابقتی امتحانات قریب ہیں اور وہ ان دنوں اپنی تیاری کے اہم مرحلے میں ہیں۔ لیکن علاقے میں پانی بھر جانے سے ان کا شیڈول بگڑ گیا ہے۔ کچھ طلباء نے کہا کہ پڑھائی کے لیے پرسکون ماحول تلاش کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔ایک طالب علم نے تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر انہیں اپنا کمرہ چھوڑنا پڑا تو کتابوں، نوٹس اور دیگر ضروری سامان کو محفوظ رکھنا ایک بڑا مسئلہ بن جائے گا۔ کئی نوجوان اپنے خاندانوں سے دور کرائے کے کمروں میں رہتے ہیں، اس لیے اچانک پیدا ہونے والی سیلابی صورتحال نے ان کے سامنے رہائش اور حفاظت کا مسئلہ بھی کھڑا کر دیا ہے۔
محفوظ مقام پر منتقل ہونے کی تیاری
مقامی رہائشی اور طلباء صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اگر گنگا اور یمنا کے پانی کی سطح میں مزید اضافہ ہوا تو متاثرہ علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونا پڑ سکتا ہے۔پریاگ راج میں سیلاب کی یہ صورتحال صرف رہائشیوں کے لیے نہیں بلکہ ہزاروں طلباء کے لیے بھی تشویش کا باعث بن گئی ہے۔ جن نوجوانوں کا مقصد اپنے مستقبل کے لیے دن رات محنت کرنا ہے، وہ اب سیلاب کے بڑھتے پانی کے درمیان اپنی جان، رہائش اور پڑھائی، تینوں کو بچانے کی فکر میں مبتلا ہیں۔