Tuesday, September 01, 2026 | 17 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • نیپال میں سیلاب کی تباہی، ہلاکتیں 939 تک پہنچ گئیں، تقریباً 4 ہزار لاپتہ

نیپال میں سیلاب کی تباہی، ہلاکتیں 939 تک پہنچ گئیں، تقریباً 4 ہزار لاپتہ

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: Sep 01, 2026 IST

نیپال میں سیلاب کی تباہی، ہلاکتیں 939 تک پہنچ گئیں، تقریباً 4 ہزار لاپتہ
نیپال میں چین کی سرحد کے قریب پیش آیا تباہ کن سیلاب اور مٹی کے تودوں کے کھسکنے کے بعد صورتحال سنگین ہے۔ امدادی کاروائیوں کا چھٹا دن جاری ہے اور نیپال کی ڈیزاسٹر اتھارٹی کے مطابق ملک میں کم از کم 939 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ 3,925 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ چین کے تبت علاقے میں بھی 16 افراد کی ہلاکت اور 546 افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات ہیں۔ اس طرح نیپال اور تبت میں مجموعی طور پر 955 افراد ہلاک اور 4,471 افراد لاپتہ ہیں۔
 

لاپتہ افراد میں غیر ملکی بھی شامل

نیپال میں لاپتہ افراد کی فہرست میں 592 غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ہائیڈرو پاور منصوبوں میں کام کرنے والے کئی افراد بھی لاپتہ ہیں۔نوواکوٹ اور رسوا میں سب سے زیادہ افراد لاپتہ ہیں۔ نوواکوٹ میں 1,158 افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ہے، جبکہ رسوا میں 865 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ لاپتہ افراد میں نیپالی فوج کے 45 اہلکار، 38 پولیس اہلکار اور 18 کسٹم و امیگریشن اہلکار بھی شامل ہیں۔
 

بھارت میں بھی لاشیں ملیں

نیپال سے بہنے والے دریاؤں کے ذریعے بھارت کے اتر پردیش تک سیلاب کا پانی، وہاں بھی 17 لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ حکام کے مطابق یہ لاشیں ممکنہ طور پر سیلاب میں بہہ کر آئی ہیں، ابھی ان کی شناخت نہیں ہو سکی اور انہیں نیپال کے سرکاری ہلاکتوں کے اعداد و شمار میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔ وزیر اعظم بلندر شاہ نے موسمیاتی تبدیلی پر تشویش ظاہر کی ،نیپال کے وزیر اعظم بلن شاہ نے کہا کہ رسوا میں دریائے بھوٹے کوشی میں آنے والا سیلاب عام نوعیت کی آفت نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہمالیائی خطے میں آنے والی بڑی قدرتی آفات میں سے ایک ہے اور اس واقعے نے ظاہر کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث خطے میں خطرات بڑھ رہے ہیں۔ سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ عالمی درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ سے ہمالیہ کے گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں، جس سے برفانی تودوں اور اچانک سیلاب کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہمالیائی ممالک کو ایسے بڑھتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے پہلے سے زیادہ تیار رہنے کی ضرورت ہے۔
 

ہائیڈرو پاور منصوبوں میں پھنسے لوگوں کی تلاش جاری

سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں ہائیڈرو پاور منصوبے بھی شامل ہیں۔ کئی کارکنوں کے لاپتہ ہونے کی وجہ سے امدادی ٹیمیں سرنگوں اور ملبے میں تلاش کر رہی ہیں۔ ریسکیو ٹیموں کو کئی مقامات پر ملبہ، تباہ شدہ سڑکیں اور پلوں کی کمی کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے۔امدادی کاروائیوں کا مرکز اب ہائیڈرو پاور منصوبوں کی زیرِ زمین سرنگیں بن گئی ہیں۔ تقریباً ایک ہزار کارکنوں کے سرنگوں میں پھنسے ہونے کا خدشہ ہے، جبکہ کچھ مقامات پر امدادی ٹیمیں ملبہ ہٹانے کے لیے بھاری مشینری اور محدود پیمانے پر دھماکوں کا استعمال کر رہی ہیں۔
 

امدادی کاروائیاں جاری

امدادی ادارے، سکیورٹی فورسز اور مقامی انتظامیہ لاپتہ افراد کی تلاش اور متاثرہ لوگوں کو محفوظ مقامات تک پہنچانے میں مصروف ہیں۔ حکام کے مطابق امدادی کاروائیوں کے ساتھ ساتھ مزید بارش اور مٹی کے تودے گرنے کے خطرے پر بھی نظر رکھی جا رہی ہے۔ نیپال اس وقت ایک بڑے انسانی بحران سے گزر رہا ہے، جہاں سیکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور ہزاروں افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ حکام کی سب سے بڑی ترجیح لاپتہ افراد کی تلاش اور متاثرہ علاقوں تک امداد پہنچانا ہے۔امدادی کاروائیوں میں صرف نیپال ہی نہیں بلکہ بھارت، چین اور جنوبی کوریا کی ٹیمیں بھی شامل ہیں۔ بھارت کی جانب سے فضائی مدد اور ضروری سامان فراہم کیا جا رہا ہے، جبکہ چینی اور جنوبی کوریائی ٹیمیں بھی سرنگوں تک پہنچنے کی کوششوں میں حصہ لے رہی ہیں۔
 
ریڈکراس کے مطابق اس آفت سے 90 ہزار سے زیادہ افراد متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ اس کے علاوہ نیپال کی بجلی کی پیداوار کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے، کیونکہ متعدد ہائیڈرو پاور پروجیکٹ متاثر ہوئے ہیں۔،ایک اور بڑی مشکل تباہ شدہ سڑکیں اور پل ہیں۔ کم از کم 19 موٹر ایبل پل اور کئی اہم سڑکیں سیلاب میں بہہ گئی ہیں، جس سے متاثرہ علاقوں تک زمینی راستے سے پہنچنا مشکل ہو گیا ہے۔ چین کے ساتھ تجارت کے لیے اہم رسوا گڑھی سرحدی گزرگاہ بھی متاثر ہوئی ہے۔کئی مقامات پر ہیلی کاپٹروں کے ذریعے رسائی حاصل کی جا رہی ہے۔