الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے ایس آئی آر کے تیسرے مرحلے کی ڈرافٹ فہرست سامنے آنے کے بعد ملک میں سیاسی اور انتظامی بحث تیز ہو گئی ہے۔ گزشتہ سال جون سے جاری اس ملک گیر عمل کے تحت اب تک 30 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں تقریباً 13.37 کروڑ، یعنی 14.1 فیصد ووٹرز کے نام ڈرافٹ فہرست میں شامل نہیں ہو سکے ہیں۔ پیر کے روز دہلی اور مہاراشٹر کی ڈرافٹ ووٹر لسٹ جاری ہونے کے بعد معاملہ مزید اہم ہو گیا ہے۔ دونوں ریاستوں کو ملا کر 2.54 کروڑ سے زائد ووٹرز کے نام فی الحال ڈرافٹ فہرست سے باہر ہیں۔ اس بڑی تعداد نے انتخابی عمل، انتظامی طریقہ کار اور آنے والے انتخابات پر ممکنہ اثرات کے حوالے سے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ تاہم، یہ بات بھی اہم ہے کہ ڈرافٹ ووٹر لسٹ حتمی نہیں ہے اور اہل ووٹرز کو اپنے نام شامل یا درست کروانے کا موقع دیا گیا ہے۔
مہاراشٹر کے چیف الیکٹورل آفیسر کے دفتر کے مطابق، ایس آئی آر کے عمل سے پہلے ریاست میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 9 کروڑ 78 لاکھ 54 ہزار 49 تھی۔ ڈرافٹ فہرست میں یہ تعداد کم ہو کر 7 کروڑ 71 لاکھ 65 ہزار 562 رہ گئی ہے۔اس طرح تقریباً 2 کروڑ 6 لاکھ سے زائد، یعنی 21.14 فیصد ووٹرز کے نام فی الحال ڈرافٹ فہرست میں شامل نہیں ہو سکے ہیں۔ریاست کے بڑے شہری اضلاع اس عمل سے سب سے زیادہ متاثر دکھائی دے رہے ہیں۔
سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع
پونے: تقریباً 28.66 لاکھ نام
تھانے: تقریباً 28.59 لاکھ نام
ممبئی سب اربن: تقریباً 26.58 لاکھ نام
ناگپور: تقریباً 14.43 لاکھ نام
ناسک: تقریباً 10.27 لاکھ نام
ممبئی سٹی: تقریباً 9.50 لاکھ نام
خاص بات یہ ہے کہ ریاست میں ڈرافٹ فہرست سے باہر ہونے والے کل ناموں میں سے تقریباً 83.83 لاکھ نام صرف پونے، تھانے اور ممبئی سب اربن اضلاع سے تعلق رکھتے ہیں، جو مجموعی اخراج کا تقریباً 40.5 فیصد بنتا ہے۔ممبئی، پونے اور تھانے جیسے بڑے شہری اور صنعتی علاقوں میں ملک کے مختلف حصوں سے آنے والے ملازمین، کرایہ داروں اور نقل مکانی کرنے والے افراد کی بڑی تعداد آباد ہے۔ پتے کی تبدیلی، ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونے، فارم جمع نہ ہونے یا دیگر انتظامی وجوہات کی وجہ سے بڑی تعداد میں نام ڈرافٹ فہرست سے باہر ہونے کا معاملہ زیر بحث ہے۔
قومی دارالحکومت دہلی میں صورتحال مزید تشویشناک دکھائی دے رہی ہے۔ یہاں ایس آئی آر سے پہلے رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد تقریباً 1.45 کروڑ تھی، جو ڈرافٹ فہرست میں کم ہو کر 97.53 لاکھ رہ گئی ہے۔یعنی تقریباً 47.7 لاکھ ووٹرز کے نام ڈرافٹ لسٹ میں شامل نہیں ہو سکے ہیں۔ یہ تعداد کل رجسٹرڈ ووٹرز کا تقریباً 32.8 فیصد بنتی ہے، یعنی تقریباً ہر تیسرا ووٹر متاثر ہوا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق مختلف اسمبلی حلقوں میں ڈیجیٹائزیشن اور نظر ثانی کے عمل کی رفتار بھی مختلف رہی۔ روہنی میں سب سے زیادہ 83.4 فیصد ڈیجیٹائزیشن ریکارڈ کی گئی، جبکہ تغلق آباد میں یہ شرح صرف 52.1 فیصد رہی۔دہلی میں ناموں کے اخراج کی وجوہات میں عدم موجودگی، موت اور دوہرے اندراجات شامل بتائے گئے ہیں۔ عدم موجودگی کی شرح 29.86 فیصد، موت کی وجہ سے 1.95 فیصد اور دوہرے اندراجات کی وجہ سے 0.98 فیصد نام متاثر ہوئے۔ تاہم ایک بڑی تعداد کو "دیگر" کے زمرے میں رکھا گیا ہے، جس پر مزید وضاحت کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔قانونی ماہرین اور انتخابی تجزیہ کاروں کے مطابق، ڈرافٹ لسٹ میں نام شامل نہ ہونا اور کسی شہری کا مستقل طور پر حقِ رائے دہی سے محروم ہونا دو الگ معاملات ہیں۔الیکشن کمیشن کی جانب سے دہلی اور مہاراشٹر سمیت متاثرہ ریاستوں کے ووٹرز کو 31 اگست سے 30 ستمبر 2026 تک دعوے اور اعتراضات درج کرانے کا وقت دیا گیا ہے۔
اس مقصد کے لیے مختلف فارم استعمال کیے جا سکتے ہیں:
فارم 6: نئے ووٹر کے اندراج یا اہل شہری کا نام دوبارہ شامل کروانے کے لیے۔
فارم 7: غلط یا دوہرے اندراج کے خلاف اعتراض درج کروانے کے لیے۔
فارم 8: نام، پتہ، عمر، جنس یا دیگر تفصیلات میں اصلاح کے لیے۔
ایلیکٹورل رجسٹریشن آفیسر تمام دعووں اور اعتراضات کی جانچ کریں گے۔ مقررہ شیڈول کے مطابق 29 اکتوبر 2026 تک جانچ کا عمل مکمل کیا جائے گا، جس کے بعد 4 نومبر 2026 کو حتمی ووٹر لسٹ جاری کیے جانے کی توقع ہے۔
سیاسی جماعتوں کے لیے بھی بڑا امتحان
اتنی بڑی تعداد میں ووٹرز کے نام ڈرافٹ فہرست سے باہر ہونے کے بعد سیاسی جماعتوں کا کردار بھی انتہائی اہم ہو گیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے تسلیم شدہ سیاسی جماعتوں کو متعلقہ ووٹرز کی معلومات فراہم کی ہیں، جس کے بعد پارٹیوں اور ان کے بوتھ لیول ایجنٹس کی ذمہ داری بڑھ گئی ہے۔
سیاسی جماعتوں کو اپنے علاقوں میں اہل ووٹرز تک پہنچ کر انہیں مقررہ وقت کے اندر ضروری فارم بھرنے اور اپنے نام دوبارہ شامل کروانے میں مدد کرنی ہوگی۔خصوصی گہری نظر ثانی کا بنیادی مقصد ووٹر لسٹ کو زیادہ درست، شفاف اور غلطیوں سے پاک بنانا ہے۔ تاہم، دہلی اور مہاراشٹر جیسے بڑے شہری علاقوں میں لاکھوں اور کروڑوں ناموں کا ڈرافٹ فہرست سے باہر ہونا اس پورے عمل کو جمہوری شمولیت کے حوالے سے ایک بڑے امتحان میں تبدیل کر رہا ہے۔اب سب کی نظریں دعووں اور اعتراضات کے مرحلے پر ہوں گی۔ یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ کتنے اہل ووٹرز اپنے نام دوبارہ شامل کروانے میں کامیاب ہوتے ہیں اور 4 نومبر 2026 کو جاری ہونے والی حتمی ووٹر لسٹ میں یہ اعداد و شمار کس حد تک تبدیل ہوتے ہیں۔