امریکہ کی ریاست کیلی فورنیا کے شہر سین ڈیاگو،کی مسجد میں فائرنگ سے 2 مشتبہ حملہ آور سیکوریٹی گارڈ سمیت 5 افراد ہلاک ہوگئے۔حکام کا خیال ہے کہ فائرنگ دونوعمرحملہ آوروں نے کی۔
پیرکی صبح پولیس کو کال آئی کہ ایک نو عمر لڑکا گھرسے بھاگ گیا ہے جو ممکنہ طور پر خودکشی کا رجحان رکھتا ہے۔ ابھی پولیس اس معاملے کی تفتیش کر ہی رہی تھی کہ فائرنگ کا واقعہ پیش آ گیا۔مقامی وقت کے مطابق دن 11 بج کر 43 منٹ پر پولیس کو اسلامک سینٹر آف سان ڈیاگو میں فائرنگ کی اطلاع ملی۔ عمارت کے سامنے تین افراد کو گولیوں کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
سان ڈیاگوکےبڑے اسلامی سینٹرپرحملہ
امریکی شہرسان ڈیاگو میں قائم بڑے اسلامی مرکز میں ہوئی خوفناک فائرنگ نے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا۔
حملہ سے مسجد میں بھگڈر؟
اس دوران مسجد میں موجود نمازیوں اور بچوں میں بھگدڑ مچ گئی، جبکہ سیکیورٹی پر مامور گارڈ نے حملہ آوروں کو روکنے کی کوشش کرتے ہوئے جان قربان کر دی۔پولیس کا کہنا ہے کہ حملے میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔
موقع پر پہنچی پولیس سرچ آپریشن
واقعے کے بعد پولیس، ایف بی آئی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن کیا۔ سان ڈیاگو پولیس چیف کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ واقعہ نفرت انگیزی پر مبنی حملہ ہو سکتا ہے۔حکام نے بتایا کہ دونوں مشتبہ حملہ آور کم عمر تھے اور ان کی لاشیں مسجد کے قریب ایک گاڑی سے ملی ہیں۔
مشتبہ شخص کی والدہ کو پولیس کا فون
پولیس کا کہنا ہےکہ حملے سے پہلے، مقامی وقت کے مطابق نو بج کر 42 منٹ پر ایک مشتبہ شخص کی والدہ نے پولیس کو کال کی اور بتایا کہ جب ان کا بیٹا گھر سے نکلا تو وہ ان کی کئی بندوقیں اور گاڑی بھی ساتھ لے گیا۔خاتون نے بتایا کہ ان کا بیٹا ایک ساتھی کے ساتھ گیا تھا اور دونوں نے کیموفلاج لباس پہن رکھا تھا۔ نوجوان کی جانب سے چھوڑے گئے ایک نوٹ میں ’نفرت پر مبنی عمومی بیانات‘ شامل تھے۔
30 گولیوں کی آواز سْنی گئی
عینی شاہد نے کہا کہ انھوں نے 30 گولیوں کی آواز سنی، اور آواز سے معلوم ہوتا تھا جیسے یہ گولیاں کسی ’نیم خود کار ہتھیار‘ سے چلائی جا رہی ہیں۔انھوں نے بتایا کہ پہلے تقریباً ایک درجن گولیاں چلائے جانے کی آواز آئی، پھر وقفہ ہوا، اور اس کے بعد ممکنہ طور پر مزید ایک درجن گولیاں چلیں۔
یہ عینی شاہد گھر میں دوپہر کا کھانا کھا رہے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے 911 پر کال کی اور پولیس ’پانچ سے 10 منٹ‘ میں پہنچ گئی۔ان کا کہنا تھا کہ تعطیلات کے دوران مسجد بہت مصروف ہو جاتی ہے۔عینی شاہد نے مزید کہا: ’یہ اچھی بات ہے کہ واقعہ جمعہ کو نہیں پیش آیا، کیونکہ اس روز سڑکیں لوگوں سے بھری ہوتی ہیں۔‘
مسجد کے ڈائیریکٹر امام طہٰ حسنی کا بیان
اسلامک سینٹر آف سان ڈیاگو کے ڈائیریکٹر امام طہٰ حسنی نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا: ’عبادت کی جگہ کو نشانہ بنانا انتہائی قابل مذمت ہے۔ یہ مرکزعبادت کی جگہ ہے، میدان جنگ نہیں۔‘وہاں رہنے والی مسلم برادری اس وقت عید کی تیاری کر رہی ہے۔
کیلیفورنیا کےگورنرنےکہا پْرتشدد حملےسے صدمہ
کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوزم نے ایک بیان میں کہا کہ ایسا مرکز ’جہاں خاندان اور بچے جمع ہو کر امن اور بھائی چارے سے عبادت کرتے ہیں‘ وہاں پُر تشدد حملے پر وہ ’شدید صدمے میں‘ ہیں۔نیوزم نے مزید کہا کہ ریاست ’مذہبی برادریوں کے خلاف دہشت یا دھمکی کے اقدامات کو برداشت نہیں کرے گی۔‘
امریکی صدر نے کہا خوفناک صورتحال
پیر کو اس فائرنگ کے بارے میں پوچھے جانے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسے ایک ’خوفناک صورتحال‘ قرار دیا۔انھوں نے وائٹ ہاؤس کی ایک تقریب کے دوران کہا: ’مجھے ابتدائی معلومات دی گئی ہیں، لیکن ہم اس کا نہایت سنجیدگی سے جائزہ لیں گے۔‘