دہلی پولیس بڑے مظاہروں اور عوامی اجتماعات سے پہلے اپنی انٹیلی جنس یعنی خفیہ معلومات جمع کرنے کے نظام کو مزید مضبوط کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ اس منصوبے میں اسپیشل برانچ کا کردار اہم ہوگا۔ یہ فیصلہ جنتر منتر سمیت دہلی کے مختلف علاقوں میں حالیہ مظاہروں کے بعد کیا گیا ہے۔ پولیس کمشنر کی ہدایات کے مطابق اب بڑے احتجاج یا جلسے سے پہلے زیادہ تفصیلی معلومات جمع کی جائیں گی تاکہ پولیس کو پہلے سے اندازہ ہو کہ مظاہرہ کتنا بڑا ہوگا اور اس سے امن و امان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے۔
مظاہرے سے پہلے کیا معلومات جمع کی جائیں گی؟
پولیس کسی بڑے مظاہرے سے پہلے سب سے پہلے یہ جاننے کی کوشش کرے گی کہ اس میں کتنے لوگوں کے شریک ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ پولیس ان تنظیموں، گروپوں اور اہم افراد کے بارے میں بھی معلومات جمع کرے گی جو مظاہرے میں شامل ہو سکتے ہیں۔ پولیس یہ بھی معلوم کرے گی کہ مظاہرہ کس مقصد کے لیے کیا جا رہا ہے، مظاہرین کے مطالبات کیا ہیں اور اس کے پیچھے کون سی تنظیمیں یا گروپ موجود ہیں۔
مظاہرین کہاں سے آئیں گے اور کہاں ٹھہریں گے؟
پولیس مظاہرین کے سفر اور رہائش سے متعلق معلومات بھی جمع کرے گی۔ اس کا مقصد یہ جاننا ہوگا کہ مظاہرے میں شامل ہونے والے لوگ دہلی میں کس راستے سے پہنچیں گے، کہاں قیام کریں گے اور مظاہرہ ختم ہونے کے بعد ان کی واپسی کا کیا انتظام ہوگا۔ پولیس کے مطابق یہ معلومات بڑے اجتماع سے پہلے مناسب انتظامات کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔
تنظیموں اور انتظامات کی بھی جانچ ہوگی
اسپیشل برانچ مظاہرے میں شامل مختلف تنظیموں کے درمیان رابطوں کا بھی جائزہ لے گی۔ پولیس یہ جاننے کی کوشش کرے گی کہ کون سی تنظیمیں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہیں اور دہلی میں ان کے مقامی رابطے کون ہیں۔ اس کے علاوہ مظاہرے کے لیے کیے جانے والے دیگر انتظامات کے بارے میں بھی معلومات جمع کی جائیں گی، تاکہ پولیس کو اجتماع کی تیاریوں کی مکمل تصویر پہلے سے معلوم ہو۔
ہجوم کی تعداد کا اندازہ کیوں ضروری ہے؟
پولیس کے لیے مظاہرے میں آنے والے لوگوں کی ممکنہ تعداد کا پہلے سے اندازہ لگانا اہم ہوگا۔ پولیس حکام کے مطابق بعض اوقات منتظمین اجازت لیتے وقت مظاہرین کی تعداد کم بتا سکتے ہیں، جبکہ اصل میں اس سے کہیں زیادہ لوگ مظاہرے میں پہنچ سکتے ہیں۔ اس لیے پولیس پہلے سے اندازہ لگانا چاہتی ہے کہ حقیقت میں کتنے افراد کے آنے کا امکان ہے، تاکہ اسی حساب سے پولیس اہلکاروں کی تعیناتی اور دیگر انتظامات کیے جا سکیں۔
جنتر منتر کے مظاہروں کے بعد فیصلہ
دہلی پولیس کا یہ نیا اقدام جنتر منتر اور کناٹ پلیس میں ہونے والے حالیہ مظاہروں کے بعد سامنے آیا ہے۔ ان مظاہروں میں شہری تنظیموں اور طلبہ کے احتجاج بھی شامل تھے، جن میں بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوئے تھے۔ ان واقعات کے بعد پولیس نے بڑے اجتماعات کے بارے میں پہلے سے معلومات جمع کرنے اور ان کا بہتر اندازہ لگانے پر زیادہ توجہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
پولیس کا مواصلاتی نظام بھی مضبوط ہوگا
بڑے مظاہروں کے دوران پولیس اہلکاروں اور اعلیٰ افسران کے درمیان رابطے کو بہتر بنانے کے لیے پولیس کے وائرلیس کمیونیکیشن سسٹم کو بھی مضبوط کیا جائے گا۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ موقع پر موجود پولیس اہلکاروں سے ملنے والی اہم معلومات فوری طور پر اعلیٰ حکام تک پہنچ سکیں اور ضرورت پڑنے پر جلد کاروائی کی جا سکے۔
پرامن احتجاج روکنا مقصد نہیں
پولیس کے مطابق اس اقدام کا مقصد پرامن مظاہروں کو روکنا نہیں ہے۔ اصل مقصد یہ ہے کہ بڑے احتجاج یا عوامی اجتماع کے بارے میں پولیس کو پہلے سے مناسب معلومات حاصل ہوں، تاکہ وہ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے بہتر انتظامات کر سکے۔ یعنی پولیس مظاہرین کی تعداد، احتجاج کی نوعیت، منتظمین، اہم گروپوں اور دیگر انتظامات کے بارے میں پہلے سے معلومات حاصل کرکے یہ فیصلہ کر سکے گی کہ کتنے اہلکار تعینات کرنے ہیں اور کس طرح سکیورٹی کا انتظام کرنا ہے۔اس طرح دہلی پولیس کا کہنا ہے کہ پہلے سے بہتر معلومات ہونے کی صورت میں بڑے اجتماعات کے دوران کسی بھی ممکنہ امن و امان کی صورتحال سے زیادہ مؤثر طریقے سے نمٹا جا سکے گا۔
یہ فیصلہ 20 جولائی کے جنتر منتر احتجاج کے بعد کیا گیا۔ اس احتجاج میں تقریباً 30 ہزار افراد جمع ہوئے تھے اور بعض مظاہرین کی پولیس سے جھڑپیں بھی ہوئی تھیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس وقت مظاہرین کی تعداد اور ان کی نقل و حرکت کے بارے میں پہلے سے کافی درست معلومات موجود نہیں تھیں۔