سال 2020 کے دہلی فسادات کے مقدمات میں ملزم عمر خالد اور شرجیل امام تقریباً چھ سال سے جیل میں ہیں۔ حالیہ دنوں (5 جنوری 2026) کو سپریم کورٹ نے عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت کی عرضی مسترد کر دی تھی۔ اب عمر خالد کی ضمانت کے حوالے سے بھارت کے سابق چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کا ایک اہم بیان سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے ضمانت کی شرائط پر اہم تبصرہ کیا ہے۔ اس کے بعد ایک بار پھر عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت کے معاملے پر بحث چھڑ گئی ہے۔
اتوار (18 جنوری 2026) کو سابق چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ جے پور لٹریچر فیسٹیول میں شریک ہوئے تھے۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ کسی بھی شخص کو مجرم قرار دیے جانے سے پہلے ضمانت ملنا اس کا بنیادی حق ہونا چاہیے۔ یہ بات سینئر صحافی ویر سنگھوی کے سوال کے جواب میں کہی گئی۔ یہ سوال سپریم کورٹ کی جانب سے عمر خالد کی دہلی فسادات کی سازش کے مقدمے میں ضمانت مسترد کرنے سے متعلق تھا۔
عمر خالد کی ضمانت پر ڈی وائی چندرچوڑ نے کیا کہا؟
جے پور لٹریچر فیسٹیول میں سابق چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ نے کہا کہ بھارتی قانون کی بنیاد "بے گناہ ہونے کا مفروضہ" ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک کسی پر الزام ثابت نہ ہو جائے، اسے بے گناہ ہی سمجھا جاتا ہے۔ چندرچوڑ نے کہا کہ اگر کوئی شخص پانچ یا سات سال تک جیل میں رہے اور بعد میں بری کر دیا جائے، تو اس کے ضائع ہونے والے سال واپس نہیں لائے جا سکتے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ضمانت صرف چند خاص حالات میں ہی روکی جانی چاہیے، جیسے کہ اگر ملزم دوبارہ جرم کر سکتا ہو، ثبوتوں سے چھیڑ چھاڑ کر سکتا ہو یا قانون سے بچنے کے لیے ضمانت کا غلط استعمال کر سکتا ہو۔ چندرچوڑ نے کہا کہ جہاں قومی سلامتی کا معاملہ ہو، وہاں عدالت کو کیس کی گہرائی سے جانچ پڑتال کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کئی بار لوگ بغیر ٹھوس وجہ کے سالوں تک جیل میں رہ جاتے ہیں۔ انہوں نے ضلعی اور سیشن عدالتوں کی جانب سے ضمانت کی عرضیوں کو بار بار مسترد کرنے کو تشویش ناک قرار دیا اور کہا کہ یہی وجہ ہے کہ ایسے مقدمات بالآخر سپریم کورٹ تک پہنچتے ہیں۔
سابق چیف جسٹس نے کہا کہ بھارتی مجرمانہ انصاف نظام کی سب سے بڑی کمزوری مقدمات کے فیصلے میں تاخیر ہے۔ اگر عدالتی عمل بہت سست ہے تو ملزم کو ضمانت ملنی چاہیے۔ انہوں نے اپنے دورِ اقتدار کے چند بڑے فیصلوں کا بھی ذکر کیا، جن میں خواتین کو مسلح افواج میں مستقل کمیشن دینا، ہم جنس پرستی کو جرم کی فہرست سے خارج کرنا اور الیکشنل بانڈ سکیم کو منسوخ کرنا شامل ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق کے مطابق، چندرچوڑ نے کہا کہ ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ میں ججوں کی تقرری کے عمل میں سول سوسائٹی کے معتبر افراد کو بھی شامل کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے عدلیہ میں شفافیت بڑھے گی اور عوام کا اعتماد مضبوط ہوگا۔ سابق چیف جسٹس نے بتایا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد وہ اپنی نجی زندگی گزار رہے ہیں اور کسی سرکاری یا دوسرے عہدے کو قبول نہیں کر رہے۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی ازدواجی زیادتی کو جرم نہیں سمجھا جاتا، جبکہ اس میں اصلاح کی ضرورت ہے۔
عمر خالد اور شرجیل امام کیس؟
خیال رہے کہ فروری 2020 کے دہلی فسادات سے متعلق "بڑی سازش" کے مقدمے میں ملزم شرجیل امام اور عمر خالد جنوری 2026 تک جیل میں بند ہیں۔ دونوں پر غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ یعنی UAPA کے تحت مقدمہ درج ہے اور وہ تہاڑ جیل میں قید ہیں۔ شرجیل امام کو 28 جنوری 2020 کو گرفتار کیا گیا تھا۔ انہوں نے CAA-NRC کے خلاف دیے گئے تقریروں کے بعد خود سرینڈر کیا تھا۔
بعد میں شرجیل امام کو دہلی فسادات کی بڑی سازش کے مقدمے میں بھی ملزم بنایا گیا اور UAPA کے تحت الزام عائد کیا گیا۔ جنوری 2026 تک شرجیل امام تقریباً چھ سال سے جیل میں ہیں۔ تقریروں سے متعلق کچھ مقدمات میں انہیں 2024 میں ضمانت مل گئی تھی، لیکن دہلی فسادات کی مرکزی سازش کے کیس میں وہ اب بھی جیل میں ہیں۔ 5 جنوری 2026 کو سپریم کورٹ نے ان کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی۔
اسی طرح عمر خالد کو 13 سے 14 ستمبر 2020 کی رات دہلی فسادات کی سازش کے مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ جنوری 2026 تک وہ تقریباً پانچ سال چار ماہ سے جیل میں ہیں۔ وہ بھی تہاڑ جیل میں قید ہیں اور ان کی متعدد ضمانت کی عرضیاں پہلے ہی مسترد ہو چکی ہیں۔ 5 جنوری 2026 کو سپریم کورٹ نے ان کی ضمانت کی عرضی بھی مسترد کر دی۔ اسی مقدمے میں پانچ دیگر ملزمان کو ضمانت مل چکی ہے، لیکن عمر خالداور شرجیل امام کو اب تک کوئی راحت نہیں ملی ہے۔