بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت والی کئی ریاستوں میں آئے دن مسلمانوں کو ان کی مذہبی شناخت کی بنیاد پر تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ مسلمانوں کے خلاف موب لنچنگ کی دل دہلا دینے والی وارداتوں میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔اترا کھند ،اتر پردیش ،آسام ،ایم پی سمیت دیگر بی جے پی حکومتی ریا ستوں میں مسلمانوں کے خلاف نفرتی سوچ اور تشدد کو بھی مسلسل بڑھتا ہوا دیکھا جا رہا ہے۔یو پی میں حال ہی میں ایک ہندوتوا تنظیم کے رہنما نے مسلمانوں کی ہلاکت کے لیے ہتھیار تقسیم کیے۔ جو کہ ملک کی امن و امان پر ایک سیاہ داغ ہے۔
اب مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے تشدد اور امتیازی سلوک کے واقعات پر کیرلہ کے وزیراعلیٰ پینارائی وجین نے مرکزی حکومت پر شدید حملہ کیا۔ انہوں نے مرکزی بی جے پی کی قیادت والی این ڈی اے حکومت پر سنگین الزامات لگاتے ہوئے کہا کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ دوسرے درجے کے شہریوں جیسا سلوک کر رہی ہے۔ وزیراعلیٰ پینارائی وجین نے کہا کہ مرکزی حکومت کی کئی اسکیموں اور پالیسیوں کی وجہ سے مسلمانوں کو مرکزی دھارے سے دور کیا جا رہا ہے۔
وزیراعلیٰ وجین نے مزید کہا کہ شہریت قانون (CAA) اور نیا وقف ایکٹ جیسے کئی قوانین اور پالیسیاں مسلمانوں کو معاشرے کی مرکزی دھارے سے الگ کرنے کا کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے یہ بیان کیرلہ مسلم جماعت کے زیر اہتمام منعقد 'کیرالہ یاترا' پروگرام کے اختتام کے موقع پر دیا۔ اے پی ابوبکر مسلیار کی قیادت میں 'کیرالہ یاترا' نئے سال پر یکم جنوری کو کاسر گوڈ سے شروع ہوئی تھی اور پورے ریاست کا دورہ کرتے ہوئے تیروواننت پورم میں اختتام پذیر ہوئی۔
اس دوران پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پینارائی وجین نے کہا کہ ایسے وقت میں جب لوگوں کو مذہب یا نسل کی بنیاد پر جان بوجھ کر تقسیم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ایسی یاترائیں اس کے خلاف ایک بڑا دفاع ہیں۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج ملک میں سیکولرزم، جمہوریت اور آئینی اقدار پر خطرہ منڈلا رہا ہے۔ ملک بھر میں اقلیتی برادریوں جیسے مسلمانوں اور عیسائیوں پر اور ان کے عبادت گاہوں پر حملے ہو رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ وجین نے کہا کہ فرقہ واریت کو روکنے کا واحد طریقہ سیکولرزم کو مضبوط کرنا ہے۔ بائیں بازو کے رہنما نے کہا کہ کیرلہ نے ماضی میں کئی خوفناک فرقہ وارانہ فسادات اور تنازعات دیکھے ہیں، لیکن ایل ڈی ایف حکومت کے سخت رویے کی وجہ سے ایسے حالات ختم ہو گئے۔ وزیراعلیٰ نے یہ بھی کہا کہ مذہب کے نام پر نفرت پھیلانے والی طاقتوں کے بارے میں عوام کو بیدار کرنے کی ضرورت ہے۔