میاں بیوی کے درمیان جاری اختلافات نے ایک خاندان کو شدید غم میں مبتلا کردیا۔ بیوی سے جھگڑے کے بعد ذہنی دباؤ کا شکار ایک شخص نے اپنے دو معصوم بچوں کے ساتھ نظام ساگر پراجکٹ کے بیک واٹر میں چھلانگ لگا کر خودکشی کرلی۔ اس افسوسناک واقعہ میں دونوں بچوں کی لاشیں برآمد کرلی گئی ہیں، جبکہ والد کی تلاش جاری ہے۔
تفصیلات کے مطابق تلنگانہ کے ضلع سنگاریڈی کے نظام پیٹ منڈل کے رہنے والے کرشنا (32) اور سویتہ میاں بیوی تھے۔ ان کے دو بچے رکشت (8) اور اننیا (5) تھے۔ بتایا گیا ہے کہ کچھ عرصے سے دونوں میاں بیوی کے درمیان اختلافات چل رہے تھے۔ حال ہی میں دونوں کے درمیان شدید بحث ہوئی، جس کے بعد کرشنا ذہنی طور پر پریشان ہوگیا۔
اس کے بعد کرشنا اپنے دونوں بچوں کو لے کر کاماریڈی ضلع کے نظام ساگر پراجکٹ کے بیک واٹر علاقے پہنچا۔ مقامی افراد کے مطابق شبہ ہے کہ کرشنا نے پہلے دونوں بچوں کو پانی میں دھکیلا اور بعد میں خود بھی پانی میں چھلانگ لگا دی۔
واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور تلاشی کارروائی شروع کردی۔ ریسکیو اہلکاروں نے رکشت اور اننیا کی لاشیں برآمد کرلیں، تاہم کرشنا کا ابھی تک کوئی پتہ نہیں چل سکا ہے۔ریسکیو ٹیمیں کرشنا کی لاش کی تلاش کے لیے بڑے پیمانے پر آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں۔ بانسواڑہ پولیس نے معاملہ درج کرکے تحقیقات شروع کردی ہیں۔ واقعہ کی مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔
آم کھانے کےبعد خاندان بیمار، دو لڑکیوں کی موت؟
حیدرآباد سٹی پولیس کمشنر سجنار نے آم کھانے کے بعد بیمار پڑنے سے ایک پرائیویٹ اسپتال میں زیر علاج دو بہبوں کی موت پر تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے نارائن گوڑا پولیس کو جمعرات کو فیلڈ سطح پر مکمل تحقیقات کرنے کا حکم دیا۔ بتایا جا رہا ہےکہ کرناٹک کے بیدر کے رہنے والے وجی ناتھ اور اندومتی جوڑے نارائن گوڑا کے وٹھل واڑی میں رہتے ہیں۔
اس مہینے کی 6 تاریخ کو رینوکا نامی ایک رشتہ دار نے نارائن گوڑا میں ایک پھری والے سے 2 کلو آم خریدے۔رینوکا، اس کی ماں، اس کا بیٹا، اندومتی اور اس کی پانچ بیٹیاں، کل 9 لوگوں نے یہ آم کھائے تھے۔ اس مہینے کی 7 تاریخ کو، اندومتی اور اس کی پانچ بیٹیوں کو بہت زیادہ الٹیاں آنے لگیں۔ اس سے پریشان ہوکر وہ علاج کے لیے کاچی گوڑا کے ایک پرائیویٹ اسپتال گئے جہاں اسی رات بھونیشوری نامی 17 سالہ لڑکی کی موت ہوگئی اور اگلے دن ایک اور لڑکی سندھیارانی (10) کی بھی موت ہوگئی۔
اموات کے اس سلسلے نے ان کے اہل خانہ کو گہرے غم میں مبتلا کر دیا ہے۔ اس واقعے میں دو لڑکیوں کی موت ہوگئی، جب کہ اندومتی اور دیگر دو بیٹیوں کو علاج کے بعد فارغ کردیا گیا، جب کہ ایک اور بیٹی اسپتال میں زیر علاج ہے اور ڈاکٹروں کے مطابق اس کی صحت مستحکم ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ان کے کھائی گئی غذا، پھلوں اور سبزیوں کے نمونے ٹیسٹ کے لیے لیبارٹری بھیجے گئے ہیں۔
متاثرہ کے اہل خانہ نے پولیس کو دی گئی شکایت میں کہا ہے کہ وہ آم کھانے کے بعد بیمار ہو گئے۔ پولیس اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ آموں کو جلدی پکنے کے لیے استعمال کیا جانے والا کیمیکل اس کی وجہ تھا یا اس کی وجہ دیگر کھانے پینے کی اشیاء تھیں۔ واضح رہےکہ اس سے قبل بھی مہاراشٹرا میں بریانی کھانےکےبعد تربوز خانے سے ایک خاندان کی موت کا معاملہ بھی سامنے آیا تھا۔