تلنگانہ کے سابق وزیر اعلیٰ اور بی آر ایس کے سربراہ کے چندر شیکھر راؤ (KCR) سے اتوار کو فون ٹیپنگ کیس میں اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم (SIT) نے ان کے رہائش گاہ پر تقریباً 5 گھنٹے تک سخت پوچھ گچھ کی۔ یہ پوچھ گچھ بنجارہ ہلز میں واقع ان کی نندی نگر رہائش گاہ پر ہوئی، جہاں تفتیشی افسران کے پہنچتے ہی پورا علاقہ سیکیورٹی کے حلقوں میں تبدیل ہو گیا۔ تاہم، اس قانونی کاروائی کے باوجود KCR کے کارکنوں کا جوش کم ہوتا نہیں دکھائی دیا اور ہزاروں کی تعداد میں ان کے حامی وہاں جمع ہو گئے۔
میڈیا رپورٹس اور مختلف نیوز پورٹلز سے حاصل معلومات کے مطابق، پولیس افسران دوپہر تقریباً 3 بجے KCR کے گھر پہنچے اور شام تقریباً 8 بجے تک ان سے سوال و جواب کیے۔ پوچھ گچھ کے دوران KCR سے آئی پی ایس افسران کے ساتھ ان کی بات چیت اور فون ٹیپنگ کے احکامات پر سوالات کیے گئے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ SIT نے اس بات پر بھی توجہ مرکوز کی کہ کیا سابق وزیر اعلیٰ کو اس پورے آپریشن کی معلومات تھیں۔
KCR کے گھر کے باہر ہجوم:
تفتیش کے دوران گھر کے باہر کا منظر بالکل مختلف تھا۔ جیسے ہی خبر پھیلی کہ SIT ان کے گھر پہنچ گئی ہے، بی آر ایس کارکن ان کی حمایت میں سڑکوں پر نکل آئے۔ جب پوچھ گچھ ختم ہوئی اور SIT افسران واپس لوٹے تو KCR باہر نکلے اور اپنے کارکنوں کا حوصلہ بڑھایا۔
کیس کیسے سامنے آیا؟
یہ کیس ریاست میں کانگریس کی حکومت کے قیام کے بعد ان الزامات کے بعد سامنے آیا کہ پچھلی بی آر ایس حکومت نے سیاسی حریفوں، عدلیہ اور یہاں تک کہ اپنی پارٹی کے قانون سازوں کی نگرانی کے لیے غیر قانونی طور پر فون ٹیپ کیے تھے۔ اس کیس کے سلسلے میں سابق انٹیلی جنس چیف پرناو کمار راؤ سمیت کئی سینئر پولیس افسران کو پہلے ہی گرفتار کیا جا چکا ہے۔
وزیر اعلیٰ سے طویل پوچھ گچھ:
پوچھ گچھ کے وقت کے ٹی راما راؤ، سابق وزیر ٹی ہریش راؤ، اور دیگر پارٹی لیڈران بھی موجود تھے۔ بھارٹ راشٹر سمیتی نےاس معاملے کو لے کر تلنگانہ کی کانگریس حکومت کو جم کر نشانہ بنایا ہے۔فون ٹیپنگ کیس میں سابق وزیرِ اعلیٰ کے چندر شیکھر راؤ سے ایس آئی ٹی کی پوچھ گچھ پر حکمراں کانگریس نے وضاحت دی ہے ۔تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر مہیش کمار گوڑ نے کہا ہے کہ قانون سب پر یکساں طور پر لاگو ہوتا ہے ۔ اور فون ٹیپنگ جیسے سنگین معاملے میں مکمل اور غیر جانبدار جانچ ضروری ہے۔