پاکستان کے بلوچستان صوبے میں گزشتہ 40 گھنٹوں میں دہشت گردی کے خلاف آپریشن میں 145 دہشت گرد ہلاک ہوئے ہیں،جبکہ اس آپریشن کے درمیان 17 سیکیورٹی اہلکار بھی جا ں بحق ہوئےہیں۔بلوچستان کے وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی نے اتوار کو کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ تمام 145 دہشت گردوں کی لاشیں حکام کے قبضے میں ہیں اور ان کی شناخت کا عمل جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب سے سیکیورٹی فورسز نے صوبے میں دہشت گردی کے خلاف جنگ شروع کی ہے، تب سے دو دن سے بھی کم وقت میں مارے گئے دہشت گردوں کی یہ سب سے زیادہ تعداد ہے۔ بگٹی نے بتایا کہ کوئٹہ، سبی، گوادر، نوشکی، پسنی سمیت مختلف مقامات پر دہشت گردوں سے لڑتے ہوئے پولیس اور سیکیورٹی فورسز کے 17 اہلکار شہید ہو گئے ہیں ۔
اس سے پہلے دن میں پاکستانی فوج نے کہا تھا کہ متعدد کاؤنٹر ٹیررازم آپریشنز میں 15 فوجی اور 92 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ فوج نے بیان میں کہا کہ یہ آپریشن اس وقت شروع کیے گئے جب بلوچ گروہوں سے منسلک دہشت گردوں نے ہفتہ کو متعدد مقامات پر حملے کیے۔ فوج کے مطابق دہشت گردوں نے کوئٹہ، مستونگ، نوشکی، دلبندین، خاران، پنجگور، تمپ، گوادر اور پسنی کے آس پاس دہشت گردانہ سرگرمیاں کرکے امن کو متاثر کرنے کی کوشش کی۔
فوج کے بیان میں کہا گیا:ہمارے بہادر جوانوں نے مکمل درستگی کے ساتھ دہشت گردوں کا مقابلہ کیا اور بلوچستان میں طویل اور بہادرانہ آپریشنز کے بعد تین خودکش بمبار سمیت 92 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔
فوج نے مزید بتایا کہ دہشت گردوں نے عام شہریوں کو بھی نشانہ بنایا، جس میں خواتین، بچوں، بزرگوں اور مزدوروں سمیت 31 شہری ہلاک ہوئے (کل شہری ہلاکتیں 31، جن میں 5 خواتین اور 3 بچے شامل ہیں)۔ آپریشنز اور بعد کی جھڑپوں میں 17 سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے۔
بگٹی نے میڈیا کو بتایا کہ پسنی اور کوئٹہ میں دہشت گردوں نے دو خاتون خودکش بمباروں کا استعمال کیا تھا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا:خفیہ ایجنسیوں نے ہمیں پہلے ہی کوئٹہ پر ایک بڑے حملے کی اطلاع دی تھی اور ہفتہ کی رات کو ان دہشت گردوں نے 12 مختلف مقامات پر ہماری سیکیورٹی فورسز (پولیس اور فرنٹیئر کور کے جوانوں سمیت) اور عام شہریوں پر حملہ کیا۔انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں دو خودکش بمبار بھی ہلاک ہوئے۔
بگٹی نے مزید کہا کہ جمعہ کو پنجگور اور شابان علاقوں میں 41 دہشت گردوں کے مارے جانے کے بعد سیکیورٹی فورسز اور دیگر ایجنسیاں ریڈ الرٹ پر ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ گزشتہ 40 گھنٹوں میں سب سے تکلیف دہ بات گوادر میں 5 بے گناہ خواتین اور 3 بچوں کی ہلاکت تھی۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گرد پولیس اور سیکیورٹی فورسز کے ٹھکانوں پر قبضہ کرنا چاہتے تھے اور انہیں ان کے ہینڈلرز گائیڈ کر رہے تھے، جن میں سے کچھ افغانستان میں بیٹھے تھے۔ بگٹی نے بلوچ لبریشن آرمی (BLA) جیسے باغی گروہوں کے ساتھ کسی بھی قسم کی بات چیت سے انکار کر دیا اور پوچھا کہ کیا یہ کوئی سیاسی جماعت ہے جس سے حکومت مذاکرات کرے گی۔