اتراکھنڈ میں ایک مسلم بزرگ جسکی گزشتہ قریب 25 سالوں سے کپڑے کی دکان ہے۔انہوں نے اپنے دکان کے نام پر لفظ "بابا" کا استعمال کیا ،جسے لیکر ہندو تنظیم بجرنگ دل نے حالیہ دنوں کافی ہنگامہ کیا،اور مسلم شخص کو دھمکیاں دی۔جسکے بعد ایک دیپک نامی ہندو شخص نے بجرنگ دل کے لوگوں کی مخالفت اور مسلم شخص کی حمایت میں ایک چٹان کی طرح آ کھڑا ہوا ،جسے لیکر بجرنگ دل کے لوگوں نے دیپک کے خلاف بھی ہنگامہ کیا۔
تاہم اب یہ تنازع ایف آئی آر تک پہنچ گیا ہے۔اس پورے معاملہ میں پولیس نے دیپک کے خلاف تعزیرات ہند (آئی پی سی) کی دفعہ 115(2)، 191(1)، 351(2) اور 352 کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔
لیکن رپورٹس کے مطابق جن دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے وہ گرفتاری کی سہولت فراہم نہیں کرتی ۔ بلکہ بات چیت کے ذریعے تنازعہ کو حل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔تاکہ معاشرے میں کوئی عداوت نہ پھیلے اور امن قائم رہے۔
راہل گاندھی نے کی حمایت:
تاہم اب حزب اختلاف اور رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی اور لوک سبھا ایم پی اسد الدین اویسی بھی اس معاملے میں داخل ہو گئے ہیں۔ حزب اختلاف کے رہنما راہل گاندھی نے اس نوجوان کا کھل کر حمایت کی ہے، جس نے مسلم دکاندار کے لیے آواز اٹھائی تھی۔ انہوں نے لوگوں سے اس نوجوان کے ساتھ کھڑے ہونے اور اسے حوصلہ دینے کی اپیل بھی کی ۔
راہل گاندھی نے لکھا کہ اتراکھنڈ کے دیپک بھارت کے ہیرو ہیں اور آئین اور انسانیت کے لیے کھڑے ہیں۔ انہوں نے براہ راست طور پر بی جے پی اور سنگھ پریوار پر نفرت پھیلانے اور خوف کی سیاست کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اتراکھنڈ میں بی جے پی حکومت ان غیر سماجی عناصر کا ساتھ دے رہی ہے جو عام شہریوں کو ڈرانے دھمکانے اور پریشان کرنے میں مصروف ہیں۔ راہل گاندھی نے اپنے پوسٹ میں دیپک کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا، "ہم تمہارے ساتھ ہیں بھائی، تم شیر ہو۔
کیا ہے پورا معاملہ؟
دراصل، یہ پورا معاملہ 26 جنوری کو کوٹدوار کے پٹیل مارگ پر 'بابا اسکول ڈریس اینڈ میچنگ سنٹر' نام کی کپڑوں کی دکان پر شروع ہوا۔ یہ دکان گزشتہ تقریباً 30 سالوں سے 70 سال کے مسلم دکاندار وکیل احمد چلا رہے ہیں۔ الزام ہے کہ 26 جنوری کو تین چار نوجوان دکان پر آئے اور خود کو بجرنگ دل سے منسلک بتایا۔ انہوں نے دکاندار سے دکان کے نام سے 'بابا' لفظ ہٹانے کو کہا، یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ یہ لفظ ہندو مذہبی شناخت سے جڑا ہے اور مسلمان اس کا استعمال نہیں کر سکتے۔
دکاندار کی حمایت میں آکھڑا ہوا دیپک:
دکاندار وکیل احمد کا کہنا ہے کہ انہیں دھمکی دی گئی اور نام نہ بدلنے پر سنگین نتائج بھگتنے کی وارننگ دی گئی۔ اسی دوران قریب میں جم چلانے والے دیپک کمار وہاں پہنچے اور انہوں نے بجرنگ دل کے لوگوں کی مخالفت کرتے ہوئے سوال کیاکہ جب دکان تیس سال سے اسی نام سے چل رہی ہے، تو اب نام بدلنے کا مطالبہ کیوں کیا جا رہا ہے۔ اس واقعے کی ایک ویڈیو بھی سامنے آئی ہے، جس میں دیپک بھیڑ سے کہتے نظر آ رہے ہیں کہ اگر دوسرے لوگ 'بابا' نام استعمال کر سکتے ہیں، تو وکیل احمد کیوں نہیں؟ جب ان سے ان کی شناخت پوچھی گئی، تو انہوں نے جواب دیا، "میرا نام محمد دیپک ہے۔"
پولیس نے دیپک کے خلاف مقدمہ درج کیا:
جب دیپک نے مسلم بزرگ کی حمایت میں بجرنگ دل کے لوگوں کی مخالفت کی ،تو دیپک کو مسلسل دھمکیاں ملنے لگیں۔ اس کے جواب میں انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو جاری کیا اور کہا، "میں نہ تو ہندو ہوں، نہ مسلمان، نہ سکھ اور نہ ہی عیسائی۔ سب سے پہلے، میں ایک انسان ہوں۔ میرے مرنے کے بعد مجھے خدا اور انسانیت کو جواب دینا ہوگا، کسی مذہب کو نہیں۔"
جسکے بعد بجرنگ دل سے وابستہ ہجوم دیپک کے خلاف جمع ہو گئے ،اور انکے خلاف نعرے لگائے اور اس پر حملہ کرنے کی بھی کوشش کی۔جسکی ویڈیو سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہے،جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پولیس کی موجودگی میں ہجوم نے دیپک پر حملہ کرنے کی کوشش کی۔
لیکن پولیس نے اس معاملہ میں دیپک کے خلاف ہی ،جنہوں نے ہندو مسلم کی دیوار کو توڑ کر گنگا جمنا تہذیب کی عکاسی کی،انکے خلاف ہی مقدمہ درج کر لیا گیا۔ساتھ ہی پولیس نے چند نامعلوم لوگوں کے خلاف بھی مقدمہ درج کیا ہے ۔