جامعہ ملیہ اسلامیہ میں جموں و کشمیر گرلز ہاسٹل کی طالبات نے ہاسٹل کے میس میں کھانے کے انتظامات اور مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف دوبارہ احتجاج شروع کر دیا ہے۔ طالبات کا الزام ہے کہ انتظامیہ نے گزشتہ احتجاج کے بعد ان کے مطالبات کو تحریری طور پر تسلیم کیا تھا، لیکن بعد میں ان وعدوں پر عمل نہیں کیا گیا۔ طالبات نے 11 ستمبر کو ایک بار پھر احتجاج شروع کیا اور انتظامیہ سے اپنے مطالبات پورے کرنے کا مطالبہ کیا۔
مظاہرین کے مطابق ان کی شکایات کا تعلق خاص طور پر کھانے کے معیار، میس کے انتظام اور عملے کی تعیناتی سے ہے۔ طالبات کا کہنا ہے کہ گزشتہ احتجاج کے بعد انتظامیہ نے انہیں یقین دہانی کرائی تھی کہ مسائل حل کیے جائیں گے، لیکن ان کے مطابق عملی طور پر صورتحال میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی۔ اسی وجہ سے طالبات نے دوبارہ احتجاج کا راستہ اختیار کیا ہے۔
ناشتہ نہ ملنے اور دوپہر کے کھانے میں تاخیر کا الزام
احتجاج کرنے والی طالبات نے الزام لگایا کہ 11 ستمبر کی صبح انہیں ناشتہ فراہم نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق دوپہر کا کھانا بھی مقررہ وقت پر نہیں دیا گیا اور مبینہ طور پر سہ پہر 3 بجے کے بعد کھانا فراہم کیا گیا۔ طالبات نے یہ بھی الزام لگایا کہ کھانا پیش کیے جانے کے وقت میس میں مرد عملہ موجود تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ گرلز ہاسٹل کے میس میں خواتین عملے کی تعیناتی کا مطالبہ پہلے ہی انتظامیہ کے سامنے رکھا جا چکا ہے، لیکن اس پر عمل نہیں کیا گیا۔ مظاہرین نے اس بات پر بھی اعتراض کیا کہ کھانا لینے سے پہلے طالبات سے ان کے نام اور موبائل فون نمبر مانگے گئے۔ احتجاج کرنے والی طالبات کا دعویٰ ہے کہ اس طرح ذاتی معلومات جمع کرنے سے ان طالبات کی نگرانی یا انہیں بعد میں نشانہ بنانے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔
فوڈ کنٹریکٹر کو لے کر بھی اعتراض
طالبات نے انتظامیہ کے اس دعوے پر بھی سوال اٹھایا کہ ہاسٹل کے فوڈ کنٹریکٹر کو تبدیل کر دیا گیا ہے۔ مظاہرین کا الزام ہے کہ جس شخص سے وہ پہلے بھی شکایت کرتی رہی ہیں، وہی شخص مبینہ طور پر ایک مختلف نام کے ذریعے دوبارہ کھانا فراہم کر رہا ہے۔ طالبات کا دعویٰ ہے کہ یہ کنٹریکٹر 2023 سے ہاسٹل کے میس کے کھانے کے انتظام سے وابستہ رہا ہے۔ ان کے مطابق، انہوں نے اس سے قبل بھی اس کنٹریکٹر کے کام جاری رکھنے پر اعتراض کیا تھا، لیکن ان کی شکایات پر مناسب کاروائی نہیں کی گئی۔
AISA نے طالبات کو دھمکیاں ملنے کا الزام لگایا
'AISA' یعنی آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کی جامعہ ملیہ اسلامیہ یونٹ کے سیکریٹری سوربھ نے بھی طالبات کی حمایت کرتے ہوئے انتظامیہ پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ سوربھ کے مطابق جموں و کشمیر گرلز ہاسٹل کی طالبات نے کھانے کے معیار کے بارے میں بار بار شکایات کیں، لیکن ان کے مطابق شکایات دور کرنے کے بجائے طالبات کو مبینہ طور پر دھمکیوں اور ہراساں کیے جانے کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ خاص طور پر پرووسٹ نکہت اور وارڈن کی جانب سے طالبات پر دباؤ ڈالا گیا۔ سوربھ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ جن طالبات کے والدین نے ان کی شکایات کے سلسلے میں پرووسٹ سے ملاقات کی، انہیں بھی ہاسٹل سے نکالنے کی دھمکیاں دی گئیں۔ ان کے مطابق طالبات نے تقریباً رات 9:30 بجے جامعہ کے سینٹینری گیٹ پر دھرنا شروع کیا۔ احتجاج تقریباً چار سے پانچ گھنٹے تک جاری رہا، جس کے بعد انتظامیہ کے سامنے طالبات نے اپنے مطالبات رکھے۔
طالبات کے چار اہم مطالبات
احتجاج کرنے والی طالبات نے انتظامیہ کے سامنے چار اہم مطالبات پیش کیے ہیں۔
پہلا مطالبہ موجودہ فوڈ کنٹریکٹر کا معاہدہ ختم کرنے اور نئے کنٹریکٹر کی تعیناتی سے متعلق ہے۔
دوسرے مطالبے میں گرلز ہاسٹل کے میس میں مرد عملے کے بجائے خواتین عملے کی تعیناتی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
تیسرا مطالبہ ہاسٹل کی پرووسٹ نکہت اور وارڈن کے استعفے سے متعلق ہے۔
چوتھے مطالبے میں طالبات نے انتظامیہ سے واضح یقین دہانی مانگی ہے کہ احتجاج میں حصہ لینے والی طالبات کے خلاف کسی قسم کی تادیبی کاروائی، انتظامی کاروائی یا انتقامی قدم نہیں اٹھایا جائے گا۔
انتظامیہ کے ساتھ پہلے بھی ہوئی تھی ملاقات
'AISA' کے جامعہ یونٹ کے سیکریٹری سوربھ کے مطابق، گزشتہ احتجاج کے بعد ڈین اسٹوڈنٹس ویلفیئر، پرووسٹ اور ڈپٹی پراکٹر پر مشتمل انتظامیہ کی ایک ٹیم نے احتجاج کرنے والی طالبات سے ملاقات کی تھی۔ ان کے مطابق، اس ملاقات کے دوران طالبات کے چار مطالبات پر مبنی ایک تحریری معاہدہ بھی کیا گیا تھا۔ طالبات کا کہنا ہے کہ انہیں یقین دلایا گیا تھا کہ ان کے مطالبات پر عمل کیا جائے گا۔
سینٹینری گیٹ کی لائٹس بند کرنے کا الزام
تازہ احتجاج کے دوران طالبات نے ایک اور الزام بھی عائد کیا۔ مظاہرین کے مطابق سینٹینری گیٹ پر احتجاج کے دوران وہاں کی لائٹس بند کر دی گئیں۔ طالبات نے الزام لگایا کہ پروٹوکول ٹیم نے انہیں خوفزدہ کرنے یا احتجاج ختم کرانے کے لیے ایسا کیا۔ طالبات کا کہنا ہے کہ وہ اپنے مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹیں گی اور انتظامیہ سے گزشتہ احتجاج کے دوران دی گئی تحریری یقین دہانیوں پر عمل درآمد کا مطالبہ کرتی رہیں گی۔
احتجاج دوبارہ کیوں شروع ہوا؟
طالبات کے مطابق تازہ احتجاج کی بنیادی وجہ ہاسٹل کے میس میں کھانے کے معیار اور انتظامات سے متعلق پرانی شکایات کا حل نہ ہونا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے پہلے بھی بار بار شکایات کیں، جس کے بعد انتظامیہ نے ان کے مطالبات کو تحریری طور پر تسلیم کیا تھا۔ طالبات کا دعویٰ ہے کہ ان یقین دہانیوں کے باوجود میس کے مسائل حل نہیں ہوئے۔ اسی وجہ سے 11 ستمبر کو جموں و کشمیر گرلز ہاسٹل کی طالبات نے دوبارہ احتجاج شروع کیا اور انتظامیہ سے فوڈ کنٹریکٹر کا معاہدہ ختم کرنے، میس میں خواتین عملے کی تعیناتی، پرووسٹ اور وارڈن کے استعفے اور احتجاج کرنے والی طالبات کے خلاف کسی بھی انتقامی یا تادیبی کاروائی سے تحفظ کی تحریری یقین دہانی کا مطالبہ کیا۔