کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے مرکزی ترجمان سوربھ داس نے الزام عائد کیا ہے کہ سوشل میڈیا کمپنی میٹا ان کی انسٹاگرام پوسٹس کو بار بار بلاک کر رہی ہے۔ انہوں نے اس معاملے پر مودی حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے حکومتی دباؤ میں نہ آنے کی اپیل کی ہے۔ سوربھ داس نے ہفتے کے روز ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ کے ذریعے دعویٰ کیا کہ ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق، نیر گتیش نامی ایک شخص نے اکشت ترپاٹھی سے متعلق ان کی ایک ویڈیو کی شکایت کی تھی، جس کے بعد ان کی پوسٹ کے خلاف کارروائی کی گئی۔ داس نے بتایا کہ اکشت ترپاٹھی 20 سالہ طالب علم ہیں اور ان کے حوالے سے گریٹر نوئیڈا اتھارٹی کی جانب سے 5 لاکھ روپے کا ضمانتی مچلکہ جاری کیے جانے کا معاملہ زیر بحث رہا ہے۔
سی جے پی ترجمان نے میٹا اور دیگر سوشل میڈیا کمپنیوں کے طریقہ کار پر بھی سوال اٹھائے۔ انہوں نے خاص طور پر مواد کی جانچ، اکاؤنٹس کی نگرانی، پوسٹس کی رسائی اور مواد کو بلاک کیے جانے کے عمل پر سوالات اٹھاتے ہوئے پوچھا کہ کیا سوشل میڈیا کمپنیاں کسی شکایت پر کارروائی کرنے سے پہلے مناسب تصدیق اور جانچ پڑتال کرتی ہیں؟ داس کا دعویٰ ہے کہ اس طرح کی کارروائیوں سے ان کے اکاؤنٹ کی رسائی متاثر ہو رہی ہے اور ان کی پوسٹس پہلے کے مقابلے میں کم لوگوں تک پہنچ رہی ہیں۔
سوربھ داس نے مودی حکومت کو بھی نشانہ بنایا اور سوشل میڈیا کمپنیوں سے اپیل کی کہ وہ کسی بھی قسم کے حکومتی دباؤ میں آئے بغیر اپنے طے شدہ اصولوں کے مطابق کارروائی کریں۔ انہوں نے ایک اسکرین شاٹ بھی شیئر کیا، جس میں کاپی رائٹ سے متعلق ایک نوٹیفکیشن نظر آ رہا تھا۔ نوٹیفکیشن میں بتایا گیا تھا کہ متعلقہ مواد کو بلاک کر دیا گیا ہے۔ داس کے مطابق یہ وہ پوسٹ تھی جو انہوں نے 10 ستمبر کو انسٹاگرام پر شیئر کی تھی۔ تاہم، ان الزامات پر میٹا یا متعلقہ حکام کی جانب سے کوئی تفصیلی ردعمل اس متن میں شامل نہیں ہے۔ اس لیے پوسٹس بلاک کیے جانے کی اصل وجہ اور کارروائی کے پس پردہ مکمل صورتحال کمپنی کے موقف کے بعد ہی واضح ہو سکے گی۔
لنکڈ اِن پر موجود ان کی پروفائل کے مطابق، سوربھ داس سی جے پی کے رہنما اور ترجمان ہیں اور دہلی میں مقیم ہیں۔ ان کا تعلق صحافت اور ماس کمیونیکیشن کے شعبے سے رہا ہے، جبکہ وہ تفتیشی صحافت سے بھی وابستہ رہے ہیں۔ داس کے مطابق، انہوں نے 2017 میں صرف 18 سال کی عمر میں (RTI) ایکٹ کا استعمال شروع کیا تھا۔ بعد ازاں انہوں نے قانون، حکمرانی، عدلیہ، جرائم اور ادارہ جاتی شفافیت جیسے موضوعات پر کام کیا۔ ان کے مطابق، ان کی تحریریں مختلف معروف میڈیا اداروں میں بھی شائع ہوتی رہی ہیں۔