اترپردیش کے وارانسی میں بارش اور سیوریج کے پانی نے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ بھیلوپور علاقے کے شیوالا میں گندے پانی کے بہاؤ اور جمع ہونے کے باعث آس پاس کی سڑکیں اور گلیاں زیرآب آگئی ہیں۔ کئی مقامات پر سیوریج کا پانی گھروں تک پہنچنے کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔ صورتحال کے باعث مقامی رہائشیوں کے ساتھ ساتھ کاشی آنے والے غیر ملکی سیاحوں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
اس معاملے پر سماج وادی پارٹی کے قومی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے یوگی آدتیہ ناتھ حکومت کو نشانہ بنایا ہے۔ اکھلیش یادو نے ’ایکس‘ پر پانی بھرنے کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے حکومت کی انتظامی کارکردگی پر سوال اٹھائے اور طنزیہ انداز میں وارانسی کی صورتحال کو ’زیرِ آب ترقی‘ قرار دیا۔ اکھلیش یادو نے الزام لگایا کہ شہر میں بنیادی سہولیات اور نکاسی آب کے انتظامات کی صورتحال تشویش ناک ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں لکھا کہ کاشی جیسے اہم شہر میں گندے پانی کی وجہ سے غیر ملکی سیاحوں کے سامنے شرمندگی کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ انہوں نے اس معاملے کو ریاستی اور مرکزی حکومت کے درمیان مبینہ سیاسی کشمکش سے بھی جوڑا۔
شیوالا اور آسی میں شہری پریشان
شیوالا کے علاوہ آسی سمیت وارانسی کے دیگر علاقوں میں بھی پانی جمع ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ سڑکوں پر گندا پانی کھڑا ہونے سے آمدورفت متاثر ہوئی ہے اور مقامی لوگوں کو روزمرہ کے کاموں کے لیے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران شہر کے مختلف علاقوں میں پانی بھرنے اور سیوریج کے مسائل نے میونسپل انتظامات پر بھی سوال اٹھائے ہیں۔ خاص طور پر سیاحتی علاقوں میں گندے پانی کی موجودگی نے شہری انتظامیہ کے لیے ایک بڑا چیلنج پیدا کیا ہے۔
شکایت کے بعد میونسپل کارپوریشن کی کارروائی
معاملہ سامنے آنے کے بعد وارانسی میونسپل کارپوریشن اور جل کل محکمہ حرکت میں آیا۔ میونسپل کمشنر ہمانشو ناگپال کی ہدایت پر محکمہ کے انجینئروں نے شیوالا وارڈ اور رتناکر پارک کے قریب سیوریج کے مسئلے کا معائنہ کیا۔ حکام کے مطابق علاقے سے گزرنے والی پرانی ٹرنک سیور لائن اور کونیا مین سیوریج پمپنگ اسٹیشن کا بھی جائزہ لیا گیا۔ تعمیراتی ڈویژن کے تعاون سے خراب اور ناکارہ پمپوں کی فوری مرمت کی گئی۔
میونسپل کارپوریشن کا کہنا ہے کہ پمپ دوبارہ شروع ہونے کے تقریباً ایک سے ڈیڑھ گھنٹے کے اندر متاثرہ گلیوں اور علاقوں سے جمع گندا پانی نکال دیا گیا۔ کارپوریشن نے مستقبل میں اس طرح کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے نکاسی آب کا مستقل منصوبہ تیار کرنے کی بھی بات کہی ہے۔ تاہم، حالیہ پانی بھرنے کے واقعے نے وارانسی کے نکاسی آب کے نظام اور شہری انتظامات پر ایک بار پھر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔