وزیراعظم نریندر مودی اور چینی صدر شی جن پنگ آج نئی دہلی میں ہونے والی برکس (BRICS) سربراہی کانفرنس کے موقع پر دو طرفہ ملاقات کریں گے۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان سرحدی صورتحال، دفاع اور سکیورٹی، تجارت، سرمایہ کاری، ویزا اور دونوں ممالک کے درمیان پروازوں سمیت کئی اہم امور پر بات چیت متوقع ہے۔ یہ ملاقات 2020 میں مشرقی لداخ میں پیدا ہونے والے سرحدی تنازع کے بعد بھارت اور چین کے تعلقات کو معمول پر لانے کی کوششوں کے درمیان ہو رہی ہے۔
چینی صدر شی جن پنگ ہفتے کے روز بیجنگ سے بھارت کے لیے روانہ ہوئے۔ وہ برکس کی 18ویں سربراہی کانفرنس میں شرکت کریں گے۔ شی جن پنگ کا تقریباً سات سال بعد بھارت کا یہ پہلا دورہ ہے۔ ان کا آخری دورہ 2019 میں ہوا تھا، جب انہوں نے چنئی کے قریب ماملّاپورم میں وزیراعظم مودی کے ساتھ غیر رسمی سربراہی ملاقات کی تھی۔ چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ نینگ نے کہا کہ مودی اور شی جن پنگ کی ملاقات مسلسل تیسرے سال ہونے والی رہنماؤں کی ملاقات ہوگی۔ اس سے قبل دونوں رہنما قازان اور تیانجن میں ملاقات کر چکے ہیں۔
ماؤ نینگ نے کہا کہ چین بھارت کے ساتھ مل کر دونوں رہنماؤں کی اسٹریٹجک رہنمائی پر عمل کرنا چاہتا ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک دو طرفہ تعلقات کو طویل مدتی تناظر میں دیکھیں گے، رابطے بڑھائیں گے، تعاون میں اضافہ کریں گے اور اختلافات کو مناسب طریقے سے حل کرنے کی کوشش کریں گے۔
شی جن پنگ کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب بھارت اور چین 2020 میں مشرقی لداخ میں پیدا ہونے والے سرحدی تعطل کے بعد تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اسی وجہ سے مودی اور شی جن پنگ کی ملاقات کو دونوں ممالک کے تعلقات کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے۔
ملاقات میں سرحدی معاملے کے علاوہ دونوں ممالک کے درمیان عسکری اور سفارتی رابطوں کو مزید مضبوط بنانے پر بھی بات ہو سکتی ہے۔ سرحد پر امن و استحکام برقرار رکھنے اور مستقبل میں اختلافات سے بچنے کے طریقہ کار پر بھی تبادلہ خیال متوقع ہے۔ تجارت بھی ملاقات کے اہم موضوعات میں شامل ہو سکتی ہے۔ بھارت کی جانب سے چینی مارکیٹ تک بھارتی کمپنیوں کی رسائی بڑھانے، بھارتی برآمدات میں اضافہ کرنے اور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی خسارہ کم کرنے پر بات ہو سکتی ہے۔
اس کے علاوہ مشینری اور ٹیکنالوجی کی فراہمی، چینی سرمایہ کاری کے لیے قابلِ اعتماد ضوابط، ویزا کے طریقہ کار میں آسانی اور دونوں ممالک کے درمیان پروازیں بحال کرنے یا بڑھانے جیسے معاملات بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔
برکس سربراہی کانفرنس کے حوالے سے چین نے کہا ہے کہ صدر شی جن پنگ عالمی صورتحال، برکس ممالک کے درمیان تعاون اور تنظیم کے مستقبل سے متعلق امور پر دیگر رہنماؤں کے ساتھ تبادلہ خیال کریں گے۔
شی جن پنگ نے 2019 میںماملّاپورم کے علاوہ 2016 میں برکس سربراہی کانفرنس میں شرکت کے لیے گوا کا دورہ کیا تھا۔ اس سے قبل وہ ستمبر 2014 میں پہلی بار بھارت آئے تھے، جب انہوں نے وزیراعظم مودی کے ساتھ تفصیلی بات چیت کی تھی۔