Saturday, September 12, 2026 | 28 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • سیاست
  • »
  • ای ڈی کی کارروائی کے بعد سابق وزیر اعلیٰ کا بڑا فیصلہ، کانگریس کے تمام عہدوں سے دیا استعفیٰ

ای ڈی کی کارروائی کے بعد سابق وزیر اعلیٰ کا بڑا فیصلہ، کانگریس کے تمام عہدوں سے دیا استعفیٰ

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Sep 12, 2026 IST

ای ڈی کی کارروائی کے بعد  سابق وزیر اعلیٰ کا بڑا فیصلہ، کانگریس کے تمام عہدوں سے دیا استعفیٰ
اتراکھنڈ کے سابق وزیر اعلیٰ اور کانگریس کے سینئر رہنما ہریش راوت نے پارٹی میں اپنے دو تنظیمی عہدوں سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ راوت اتراکھنڈ پردیش کانگریس کمیٹی کی ایگزیکٹو باڈی کے رکن اور کانگریس ورکنگ کمیٹی کے مستقل مدعو رکن کی حیثیت سے ذمہ داریاں نبھا رہے تھے۔ ہریش راوت نے کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ ان کی وجہ سے کانگریس کی بدعنوانی کے خلاف جاری مہم کسی بھی طرح کمزور پڑے۔ ان کا یہ فیصلہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ED) کی جانب سے ان کے سابق ذاتی معاون اور او ایس ڈی چندن سنگھ جینا کے ٹھکانوں پر کارروائی کے بعد سامنے آیا ہے۔
 
ای ڈی کے مطابق، چندن سنگھ جینا کی رہائش گاہ سے تقریباً 32 لاکھ روپے کی غیر ظاہر شدہ نقد رقم، 200.5 گرام سونا اور 12 مہنگی گھڑیاں برآمد کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ جینا اور ان کے اہل خانہ سے مبینہ طور پر منسلک بینک کھاتوں میں موجود تقریباً 52.16 لاکھ روپے بھی منجمد کیے گئے ہیں۔ ای ڈی کی یہ کارروائی منی لانڈرنگ سے متعلق ایک مقدمے کی تفتیش کا حصہ ہے۔ اس کیس کا تعلق 2016 کے اتراکھنڈ سَب آرڈینیٹ سروس سلیکشن کمیشن (UKSSSC) بھرتی امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں سے بتایا جا رہا ہے۔
 
 
ہریش راوت کے مطابق، موجودہ صورتحال میں ان کے لیے پارٹی کے تنظیمی عہدوں پر برقرار رہنا مناسب نہیں ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ کانگریس بدعنوانی کے خلاف جدوجہد کر رہی ہے اور وہ نہیں چاہتے کہ ان سے متعلق کسی معاملے کی وجہ سے پارٹی کے موقف یا مہم پر کوئی سوال اٹھے۔
تاہم، ہریش راوت نے اپنے استعفے کے ساتھ ہی واضح کیا ہے کہ وہ کانگریس کے ساتھ اپنی سیاسی وابستگی ختم نہیں کر رہے۔ ان کا فیصلہ تنظیمی ذمہ داریوں سے دستبرداری تک محدود ہے۔ ای ڈی کی کارروائی اور اس کے بعد ہریش راوت کے استعفے نے اتراکھنڈ کی سیاست میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اب اس معاملے میں ای ڈی کی تحقیقات کس سمت آگے بڑھتی ہیں اور تفتیش میں سامنے آنے والے شواہد کا کیا نتیجہ نکلتا ہے، اس پر سیاسی حلقوں کی نظریں ہیں۔