Saturday, September 12, 2026 | 28 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • دنیا کی نگاہیں دہلی پر:18واں برکس سمٹ ، عالمی قائدین کی آمد

دنیا کی نگاہیں دہلی پر:18واں برکس سمٹ ، عالمی قائدین کی آمد

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Sep 11, 2026 IST

دنیا کی نگاہیں دہلی پر:18واں برکس سمٹ ، عالمی قائدین کی آمد
بھارت کی راجدھانی  نئی دہلی پرساری دنیا کی نظریں  ٹکی ہوئی ہیں، جہاں Global economy  اور سیاست کا رخ بدلنے والا 18واں برکس   سمٹ  شروع ہو چکا ہے۔ 12 اور 13 ستمبر کو ہونے والے اس دو روزہ تاریخی اجلاس کی میزبانی بھارت کر رہا ہے۔وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کو نئی دہلی میں بھارت منڈپم میں 18 ویں برکس کے موقع پر ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پیزشکیان کے ساتھ دو طرفہ ملاقات کی۔ اس ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تعلقات کو فروغ دینے  پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔دو ہفتوں سے بھی کم عرصے میں یہ ان  دونوں لیڈروں کی دوسری ملاقات  ہے۔ اس سے پہلے، وزیر اعظم  مودی نے کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے موقع پر مسعود  پیزشکیان سے ملاقات کی تھی جس کے دوران انہوں نے امریکہ کے ساتھ ایران کے تنازعہ پر تبادلہ خیال کیا اور اس بات کا اعادہ کیا کہ ہندوستان مشرق وسطیٰ میں امن کی بحالی کی تمام کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔
 
اپنی جمعہ کی میٹنگ کے دوران، پی ایم مودی نے ایران کو درپیش "مشکل حالات" کے باوجود برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے پیزشکیان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے گلوبل ساؤتھ کے ممالک کے درمیان لچک، اختراع، تعاون اور پائیداری کے جذبے کو فروغ دینے میں برکس کی صلاحیت کو بھی نوٹ کیا۔ 
 
 پی ایم مودی نے ایک ایکس پوسٹ میں کہا۔مغربی ایشیا کی صورتحال پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے، پی ایم مودی نے خطے میں دیرپا امن اور استحکام کو یقینی بنانے، جہاز رانی اور تجارت کی آزادی اور سمندری مسافروں کی حفاظت اور بہبود کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔
"بشکیک سے دہلی تک، نتیجہ خیز بات چیت جاری ہے۔ ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پیزشکیان سے ملاقات کرکے خوشی ہوئی۔ یہ دورہ زیادہ خاص ہے کیونکہ یہ ان کا ہندوستان کا پہلا دورہ ہے۔ ہم نے ہندوستان-ایران دوستی کے بارے میں بات کی،"
 
انہوں نے مزید کہا کہ "ہم سمجھتے ہیں کہ ہمیں طویل المدتی اور جیت کی حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے۔ خطے کی موجودہ صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ہندوستان پائیدار امن کے حصول کے لیے اپنے عزم میں ثابت قدم ہے،" انہوں نے مزید کہا۔ہندوستان اس سال کے شروع میں امریکہ ایران جنگ کے آغاز سے ہی ایرانی قیادت کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے، جس میں وزیر اعظم مودی نے خطے میں تنازعات کو حل کرنے کے لیے بات چیت اور سفارت کاری پر زور دیا ہے۔ 
 
ایران نے تنازعات کے لیے امریکہ اور اسرائیل کو مورد الزام ٹھہرایا ہے اور اس بات کو برقرار رکھا ہے کہ وہ خطے میں امن کا خواہاں ہے۔ اس بات کا اعادہ  مسعود  پیزشکیان نے پہلے دن برکس  بزنس فورم میں اپنے خطاب کے دوران کیا تھا جب انہوں نے بلاک کی تجارت میں مقامی کرنسیوں کی طرف مضبوط تبدیلی پر بھی زور دیا تھا۔
 
اپنے خطاب میں ایرانی صدر نے کہا کہ تہران اپنے جغرافیائی محل وقوع کی وجہ سے برکس توانائی، خوراک اور ٹرانسپورٹ کی سپلائی چین میں ایک اہم کڑی ہے۔ مغرب کی جانب سے ایران پر عائد کردہ "وسیع پابندیوں" پر تنقید کرتے ہوئے، پیزشکیان نے کہا کہ اقتصادی سلامتی کو قومی اور علاقائی سلامتی سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔
 
 انہوں نے کہا۔"سوال یہ ہے کہ ان چیلنجوں کے لیے برکس کا ردعمل کیا ہے؟ ہم سمجھتے ہیں کہ برکس کی حقیقی طاقت صرف اس کے اراکین کی معیشتوں کے حجم تک محدود نہیں ہے؛ بلکہ یہ اس وقت زیادہ واضح ہو جاتی ہے جب یہ صلاحیتیں تجارت، سرمایہ کاری اور مشترکہ مالی اعانت کے نیٹ ورک میں تبدیل ہو جاتی ہیں، یعنی ممکنہ تعاون سے آپریشنل کی طرف منتقلی،"انہوں نے کہا کہ جب بھی کسی ملک کی تجارت، توانائی، انفراسٹرکچر یا مالیاتی نظام سیاسی یا فوجی دباؤ میں آتا ہے تو اس کا اثر اس ملک کی سرحدوں سے باہر ہوتا ہے اور علاقائی استحکام اور حتیٰ کہ عالمی سطح پر بھی متاثر ہوتا ہے۔

 مودی ۔پوتن ملاقات 

نئی دہلی میں 18ویں برکس سمٹ سے پہلے وزیرِاعظم نریندر مودی اور روسی صدر  کے درمیان اہم دوطرفہ ملاقات ہوئی۔ملاقات میں دونوں سربراہان مملکت نے ٹریڈ، انویسٹمنٹ، ڈیفنس، انرجی اور کریٹیکل منرلس سمیت کئی اہم شعبوں میں باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر تبادلۂ خیال کیا۔
دونوں ممالک نے سال 2030 تک باہمی سالانہ تجارت کو 100 ارب ڈالر تک پہنچانے کے ہدف کو حاصل کرنے کی حکمتِ عملی پر بھی غور کیا۔۔ فی الحال دونوں ملکوں کے درمیان سالانہ تجارت تقریباً 65 ارب ڈالر ہے۔ملاقات کے دوران ہندوستان نے روس میں ہندوستانی ایکسپورٹرز کے لیے مزید مارکیٹ ایکسیس فراہم کرنے پر زور دیا۔۔ تاکہ بڑھتے ہوئے ٹریڈ ڈیفی شِٹ کو کم کیا جاسکے۔
دفاعی تعاون کے تحت دونوں ممالک نے دفاعی شراکت داری کو مزید وسعت دینے کے امکانات پر بھی بات کی۔۔ بتایا گیا ہے کہ برہموس میزائل کی اپ گریڈیشن، روس کی جانب سے باقی ایس فور ہنڈریڈ سسٹمز کی سپلائی سوکھوئی فائٹر جیٹس سے متعلق امور بھی زیرِ غور رہے۔۔ملاقات کے بعد وزیرِاعظم مودی نے صدر پوتن کو تروکُرل کا 2026 کا روسی ترجمہ بھی بطور تحفہ پیش کیا۔۔ بعد میں دونوں قائدین ایک ہی کار میں بھارت منڈپم میں منعقدہ نمائش کے لیے روانہ ہوئے۔

 

 

عالمی سطح پر اقتصادی تعاون

نئی دہلی میں جاری 18ویں برکس سمٹ کے دوران عالمی سطح پر اقتصادی تعاون اور تجارت سے متعلق اہم سرگرمیاں جاری ہیں۔اسی سلسلے میں بھارت منڈپم میں برکس بزنس سمٹ کا آغاز ہوا۔ جہاں رکن ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر بات چیت کی جارہی ہے ۔۔اس سے قبل وزیرِاعظم نریندر مودی اور روسی صدر ولادمیر پوتن نے بھارت منڈپم میں ، اِنّو پرام ایگزی بیشن ۔کا دورہ کیا۔۔دونوں قائدین نے نمائش میں ہندوستان کی صنعتی، سائنسی اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں پیش رفت کا جائزہ لیا۔

برکس ویمنز بزنس الائنس 

برکس بزنس فورم میں عالمی تجارت، خواتین کی کاروباری شراکت داری اور بدلتی عالمی معیشت پر اہم باتیں ہوئیں۔وزیرِاعظم نریندر مودی نے برکس ویمنز بزنس الائنس کو برکس کے ویژن کا اہم حصہ قرار دیا۔ اور کہا کہ خواتین آنتراپرینیورز کو قائدانہ کردار ادا کرنا چاہیے۔۔ انہوں نے تقریباً 200 خواتین بزنس لیڈرس کی شرکت پر خوشی کا اظہار بھی کیا۔وزیرِاعظم مودی نے برکس بزنس کونسل سے درخواست کی کہ وہ برکس ممالک کے درمیان تجارت میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے ایک رپورٹ تیار کرے ،۔۔اسی دوران روسی صدر ولادمیر پوتن نے مغربی ممالک پر سخت تنقید کی۔۔ پوتن نے کہا کہ مسابقتی برتری حاصل کرنے کے لیے پائپ لائنوں کو تباہ کرنا ،۔۔اور بین الاقوامی ٹرانسپورٹ کوریڈورز کو روکنا مسابقت یعنی کمپی ٹیشن کی ’بھدی شکلیں‘ ہیں۔

 اقتصادی حکمتِ عملی

برکس بزنس فورم میں وزیرِاعظم نریندر مودی نے ہندوستان کی اقتصادی حکمتِ عملی پر روشنی ڈالی۔وزیرِاعظم مودی نے کہا کہ ایسے وقت میں جب دنیا بھر میں ، ٹریڈ بیریئرس بڑھ رہی ہیں۔ ہندوستان مختلف ممالک کے ساتھ اپنے  اقتصادی رشتوں کو مضبوط کررہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ سال 2014 سے اب تک ہندوستان نے تقریباً 40 ممالک کے ساتھ فری ٹریڈ ایگری مینٹ کیے ہیں۔

ایرانی صدر کا خطاب

نئی دہلی میں برکس اجلاس کے دوران عالمی اور علاقائی صورتحال پر اہم سفارتی ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے۔اسی سلسلے میں وزیرِاعظم نریندر مودی نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے اہم باہمی ملاقات کی ہے۔۔دونوں قائدین کی یہ ملاقات بھارت منڈپم، نئی دہلی میں ہوئی۔پی ایم مودی اور پزشکیان کی 15 دن سے بھی کم عرصے میں یہ دوسری ملاقات ہے۔
ملاقات کے دوران ویسٹ ایشیا کی صورتحال اور ہندوستان۔ایران رشتوں کو مزید وسعت دینے کے امکانات پر بات چیت ہوئی۔یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں ایک بار پھر اضافہ دیکھا جارہا ہے۔۔ایرانی صدر مسعود پزشکیان پہلی مرتبہ صدر کی حیثیت سے ہندوستان کے دورے پر آئے ہیں۔۔اس سے قبل 31 اگست کو بشکیک میں مودی اور پزشکیان کی ملاقات ہوئی تھی۔

عالمی صورتحال پر تشویش 

برکس بزنس فورم میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے موجودہ عالمی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔۔انہوں نے کہا کہ ایران پر کئی برسوں سے جاری پابندیاں عائد ہیں ،۔۔اور اب امریکہ اور اسرائیل کی فوجی کارروائیوں نے صورتحال کو مزید پیچیدہ کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب کسی ملک کی  انرجی ، ٹریڈ فائنانیشیل سسٹم کو سیاسی یا فوجی دباؤ کا سامنا ہوتا ہے۔۔ تو اس کے اثرات صرف اسی ملک تک محدود نہیں رہتے۔۔ بلکہ اس کے اثرات ملکی سرحدوں سے باہر بھی محسوس کیے جاتے ہیں۔۔

ابو ظہبی کے وفد کی آمد 

ابوظہبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید النہیان برکس سمٹ میں شرکت کے لیے نئی دہلی پہنچ گئے ہیں۔۔وہ برکس لیڈرس سمٹ میں یو اے ای کے وفد کی قیادت کررہے ہیں۔۔شیخ خالد بن محمد بن زاید النہیان، متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان کی نمائندگی کرتے ہوئے 18ویں  برکس لیڈرس اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں ۔۔نئی دہلی میں برکس سمٹ میں یو اے ای کی شرکت کے دوران اقتصادی تعاون، تجارت اور سرمایہ کاری سمیت مختلف اہم امور پر توجہ رہے گی۔۔
شیخ خالد کو مارچ 2023 میں ابوظہبی کا ولی عہد مقرر کیا گیا تھا۔۔ اور وہ ابوظہبی ایگزیکٹو کونسل کے چیئرمین بھی ہیں۔۔وہ امارات کے اقتصادی اور سرمایہ کاری کے شعبے میں بھی ایک اہم شخصیت کے طور پر ابھرے ہیں۔

ملیشیا کی پی ایم دہلی پہنچے

برکس سمٹ میں شرکت کے لیے ملیشیا کے وزیرِاعظم انور ابراہیم بھی  نئی دہلی پہنچ گئے ہیں۔انور ابراہیم 18ویں برکس لیڈرس سمٹ میں شرکت کریں گے۔۔ جس کی میزبانی وزیرِاعظم نریندر مودی کررہے ہیں۔ملیشین وزیرِاعظم اور ان کے وفد کو لے کر آنے والا طیارہ جمعہ کی شام تقریباً ساڑھے چھ بجے نئی دہلی کے ایئر فورس اسٹیشن پالَم پہنچا۔ایئرپورٹ پر ملیشین وفد کا وزارتِ خارجہ اور دیگر متعلقہ عہدیداروں نے استقبال کیا۔انور ابراہیم کے دورۂ ہند کے دوران کئی عالمی قائدین کے ساتھ دوطرفہ ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔وہ ہندوستان کے علاوہ روس، ایران، قزاقستان اور ایتھوپیا کے قائدین کے ساتھ بھی باہمی رشتوں اور مختلف امور پر بات چیت کریں گے۔اپنے دورے کے دوران ملیشین وزیرِاعظم کیرالہ بھی جائیں گے۔جہاں وہ ہندوستان کے گرینڈ مفتی سے ملاقات کرکے کمیونٹی ڈیولپمنٹ اور مذہبی امور پر تبادلۂ خیال کریں گے۔

برازیل کےوزیر خارنہ کی آمد 

برازیل کے وزیرِ خارجہ ماؤرو ویئرا نے کہا ہے کہ برِکس کا مقصد صرف سیاسی سطح پر باہمی تال میل پیدا کرنا نہیں ہے۔۔انہوں نے کہا کہ برکس ممالک کے درمیان  ٹریڈ بڑھانے کے ساتھ ساتھ مختلف شعبوں میں صلاحیتوں کو فروغ دینا بھی اہم مقصد ہے۔

جنوبی افریقہ کےصدر

جنوبی افریقہ کے صدر سیرل رامافوسا نے کہا ہے کہ برکس دنیا کی ایک بڑی آبادی کی نمائندگی کرنے والا اہم فورم ہے ۔۔اسی لیے  یہ فورم عالمی سطح پر اہمیت رکھتا ہے۔
چینی صدر شی جن پنگ کل اس اجلاس میں شرکت کریں گے۔