انگلینڈ کے خلاف تیسرے ٹیسٹ میں پاکستان کی ٹیم ایک وقت پر شدید مشکلات میں گھری ہوئی تھی، لیکن ڈیبیو کرنے والے 21 سالہ رضااللہ خان نے شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے میچ کا رخ بدل دیا۔ ایجبسٹن میں کھیلے جا رہے ٹیسٹ کے تیسرے دن پاکستان نے اپنی دوسری اننگز میں 449 رنز بنائے اور انگلینڈ کے سامنے 130 رنز کا ہدف رکھا۔ رضااللہ خان نے اس دوران 81 رنز کی دھواں دار اننگز کھیلی اور نو چھکے لگائے۔
پاکستان کی پہلی اننگز انتہائی مایوس کن رہی تھی۔ ٹیم صرف 133 رنز پر آل آؤٹ ہوگئی تھی، جس کے جواب میں انگلینڈ نے اپنی پہلی اننگز میں 453 رنز بنائے۔ اس طرح انگلینڈ کو پاکستان پر 320 رنز کی بڑی برتری حاصل ہوگئی اور میچ تقریباً یکطرفہ نظر آنے لگا تھا۔ پاکستان کے لیے خطرہ یہ تھا کہ اگر وہ دوسری اننگز میں بھی جلد آؤٹ ہوجاتا تو انگلینڈ ایک اننگز سے میچ جیت سکتا تھا۔
پاکستان نے دوسری اننگز میں بہتر مزاحمت دکھائی۔ شان مسعود نے 95 رنز بنائے، بابر اعظم نے 76 رنز کی اننگز کھیلی جبکہ اذان اویس نے 59 رنز بنائے۔ ان بلے بازوں نے پاکستان کو ابتدائی مشکلات سے نکالنے میں اہم کردار ادا کیا، لیکن آخری مرحلے میں ایک بار پھر پاکستان کے لیے صورتحال خراب ہوگئی۔ 318 رنز پر پاکستان کے آٹھ کھلاڑی آؤٹ ہوچکے تھے اور انگلینڈ کو میچ جلد ختم کرنے کے لیے صرف دو وکٹیں درکار تھیں۔
اسی موقع پر رضااللہ خان نے محمد عباس کے ساتھ مل کر انگلینڈ کے گیند بازوں کے خلاف زبردست حملہ شروع کیا۔ دونوں نے نویں وکٹ کے لیے 121 رنز کی شراکت داری قائم کی۔ محمد عباس نے 42 رنز بنائے جبکہ رضااللہ نے صرف 63 گیندوں پر 81 رنز کی شاندار اننگز کھیلی۔ ان کی اننگز میں چار چوکے اور نو چھکے شامل تھے۔
رضااللہ نے شروع سے ہی جارحانہ انداز اپنایا۔ انہوں نے انگلینڈ کے تیز گیند باز گس اٹکنسن کے ایک ہی اوور میں تین چھکے لگائے۔ اس کے بعد جوفرا آرچر کو بھی نشانہ بنایا اور ان کے خلاف چھکے لگائے۔ رضااللہ نے صرف 43 گیندوں پر نصف سنچری مکمل کی، جو ان کے ٹیسٹ ڈیبیو کو مزید یادگار بنا گئی۔
رضااللہ کی اس اننگز کی سب سے خاص بات ان کے نو چھکے تھے۔ انہوں نے ٹیسٹ ڈیبیو کی ایک اننگز میں سب سے زیادہ چھکے لگانے کے ٹم ساؤتھی کے ریکارڈ کی برابری کی۔ ساؤتھی نے 2008 میں نیپئر میں انگلینڈ کے خلاف اپنے ٹیسٹ ڈیبیو پر نو چھکے لگائے تھے۔ رضااللہ نے انگلینڈ میں ایک ٹیسٹ اننگز میں سب سے زیادہ چھکے لگانے کے بین اسٹوکس کے ریکارڈ کی بھی برابری کی۔ اسٹوکس نے 2023 کی ایشز سیریز میں لارڈز کے میدان پر آسٹریلیا کے خلاف نو چھکے لگائے تھے۔
رضااللہ کی کارکردگی صرف بیٹنگ تک محدود نہیں رہی۔ وہ اس ٹیسٹ میں پاکستان کے لیے گیند سے بھی نمایاں کارکردگی دکھا چکے ہیں۔ پہلی اننگز میں انہوں نے چار وکٹیں حاصل کیں، جن میں انگلینڈ کے اہم بلے باز اور سابق کپتان جو روٹ کی وکٹ بھی شامل تھی۔ یوں اپنے پہلے ہی ٹیسٹ میچ میں رضااللہ نے گیند اور بلے دونوں سے اپنی صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔
محمد عباس نے بھی رضااللہ کا بھرپور ساتھ دیا۔ ان کی 42 رنز کی اننگز اس سیریز میں ان کی بہترین کارکردگی رہی۔ پاکستان 449 رنز پر آل آؤٹ ہوا۔
رضااللہ اور عباس کی شراکت داری نے اس میچ کو اچانک دلچسپ بنا دیا۔ ایک وقت میں انگلینڈ کی فتح تقریباً یقینی دکھائی دے رہی تھی، لیکن پاکستان کے نچلے نمبروں کے بلے بازوں نے میزبان ٹیم کو چوتھے دن تک انتظار کرنے پر مجبور کردیا۔ رضااللہ کی جارحانہ بیٹنگ نے نہ صرف پاکستان کو ایک بڑی مشکل سے نکالا بلکہ ٹیم کو میچ میں واپسی کا موقع بھی فراہم کیا۔
انگلینڈ پہلے ہی تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں 2-0 کی برتری حاصل کیے ہوئے ہے، اس لیے اس کے پاس سیریز میں 3-0 سے کلین سوئپ مکمل کرنے کا موقع موجود ہے۔ دوسری جانب پاکستان کی کوشش ہوگی کہ انگلینڈ کو یہ ہدف حاصل کرنے سے روکا جائے اور سیریز کا آخری ٹیسٹ جیت کر دورے کا اختتام کچھ بہتری کے ساتھ کیا جائے۔