• News
  • »
  • جرائم/حادثات
  • »
  • دہلی فسادات کی مبینہ سازش کیس: عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت کی درخواستیں مسترد

دہلی فسادات کی مبینہ سازش کیس: عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت کی درخواستیں مسترد

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Jul 04, 2026 IST

دہلی فسادات کی مبینہ سازش کیس: عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت کی درخواستیں مسترد
دہلی کی ککڑڈوما کورٹ نے 2020 کے دہلی فسادات کی مبینہ بڑی سازش سے متعلق مقدمے میں طلبہ کارکن عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دی ہیں۔ یہ فیصلہ ایڈیشنل سیشن جج سمیر باجپائی نے سنایا۔
 
سماعت کے دوران دہلی پولیس نے دونوں ملزمان کی ضمانت کی سخت مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ مقدمے کے حالات میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آئی ہے، اس لیے انہیں ضمانت دینے کی کوئی قانونی بنیاد موجود نہیں۔ پولیس کا کہنا تھا کہ عمر خالد اور شرجیل امام پر عائد الزامات دیگر شریک ملزمان سے مختلف نوعیت کے ہیں اور تفتیش کے مطابق دونوں نے مبینہ سازش میں اہم اور کلیدی کردار ادا کیا۔
 
خصوصی سرکاری وکیل مدھوکر پانڈے نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ کیس میں پیش کیے گئے شواہد اب بھی برقرار ہیں اور ملزمان کی رہائی سے مقدمے پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کیا تھا، جسے بعد ازاں سناتے ہوئے ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دی گئیں۔
 
دوسری جانب، عمر خالد اور شرجیل امام نے اپنی درخواستوں میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ ان کے کیس میں حالات تبدیل ہو چکے ہیں۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے ایک حالیہ فیصلے کا حوالہ دیا، جس میں جموں و کشمیر کے رہائشی سید افتخار اندرابی کو ضمانت دی گئی تھی۔ درخواست گزاروں کا کہنا تھا کہ اس فیصلے میں عدالت عظمیٰ نے طویل عرصے تک قید اور مقدمے کی سماعت میں تاخیر کو اہم بنیاد قرار دیتے ہوئے ضمانت دینے کے اصولوں پر زور دیا تھا۔
 
انہوں نے سپریم کورٹ کے یونین آف انڈیا بنام کے اے نجیب (2021) فیصلے کا بھی حوالہ دیا، جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی ملزم کا مقدمہ غیر معمولی تاخیر کا شکار ہو اور وہ طویل عرصے سے جیل میں ہو تو غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (UAPA) کی سخت دفعات کے باوجود مناسب حالات میں ضمانت دی جا سکتی ہے۔
 
تاہم ککڑڈوما عدالت نے اس استدلال سے اتفاق نہیں کیا اور قرار دیا کہ موجودہ مقدمے میں ایسی کوئی نئی صورتِ حال سامنے نہیں آئی جو ضمانت دینے کا جواز فراہم کرے۔ اس فیصلے کے بعد عمر خالد اور شرجیل امام بدستور عدالتی حراست میں رہیں گے، جبکہ مقدمے کی آئندہ سماعت مقررہ تاریخ پر جاری رہے گی۔