• News
  • »
  • سیاست
  • »
  • لوک سبھا میں راہل گاندھی کے بیان پر ہنگامہ، کرن رجیجو نے معافی کا کیا مطالبہ

لوک سبھا میں راہل گاندھی کے بیان پر ہنگامہ، کرن رجیجو نے معافی کا کیا مطالبہ

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Jul 29, 2026 IST

لوک سبھا میں راہل گاندھی کے بیان پر ہنگامہ، کرن رجیجو نے معافی کا کیا مطالبہ
لوک سبھا میں عوامی امتحانات (ترمیمی) بل، 2026 پر جاری بحث کے دوران کانگریس کے رکن پارلیمنٹ اور قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کے ایک بیان پر ایوان میں ہنگامہ برپا ہو گیا۔ راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ طلبہ کے احتجاج کے دوران مظاہرین کے خلاف پیلٹ گن کے استعمال کا حکم مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے دیا تھا، جس پر حکمراں جماعت کے ارکان نے سخت اعتراض کرتے ہوئے ان سے معافی کا مطالبہ کیا۔
 
بحث کے دوران راہل گاندھی نے کہا کہ وزیر داخلہ ایوان میں موجود نہیں ہیں، جبکہ احتجاج کرنے والے نوجوانوں کے خلاف طاقت کے استعمال کا معاملہ انتہائی سنگین ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مظاہرین پر پیلٹ گن اور دیگر طاقت کے استعمال کی اجازت وزیر داخلہ کی جانب سے دی گئی تھی۔ راہل گاندھی کے بیان پر پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے فوری اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ بغیر ثبوت کسی مرکزی وزیر پر اس نوعیت کا الزام لگانا پارلیمانی روایت اور قواعد کے خلاف ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ راہل گاندھی یا تو اپنے بیان کے حق میں شواہد پیش کریں یا پھر ایوان سے معافی مانگیں۔ کرن رجیجو نے کہا، اگر کسی کے پاس اس الزام کے ثبوت موجود ہیں تو انہیں ایوان میں پیش کیا جائے۔ اگر ایسا نہیں ہے تو اس قسم کے غیر مصدقہ الزامات پارلیمنٹ میں نہیں لگائے جا سکتے۔
 
اکھلیش یادو نے راہل گاندھی کا کیا دفاع 
 
اس دوران سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے راہل گاندھی کے مؤقف کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اگر اپوزیشن نے حکومت پر کوئی سنگین سوال اٹھایا ہے تو حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ واضح کرے کہ احتجاج کے دوران طلبہ کے خلاف طاقت کے استعمال کا فیصلہ کس سطح پر لیا گیا تھا۔ اکھلیش یادو نے کہا کہ اس معاملے کی شفاف وضاحت ہونی چاہیے تاکہ ملک کے نوجوانوں اور عوام کے سامنے تمام حقائق آ سکیں۔
 
کرن رجیجو کا جواب
 
اکھلیش یادو کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کرن رجیجو نے کہا کہ اگر کسی واقعے کی جانچ کا مطالبہ کیا جاتا ہے تو اس پر الگ سے غور کیا جا سکتا ہے، لیکن بغیر ثبوت کسی مخصوص شخص پر الزام لگانا مناسب نہیں۔ انہوں نے کہا، اکھلیش جی، آپ کی بات الگ ہے، لیکن راہل گاندھی نے براہِ راست وزیر داخلہ کا نام لیا ہے۔ اگر ان کے پاس کوئی ثبوت ہے تو وہ ایوان میں پیش کریں، ورنہ انہیں معافی مانگنی چاہیے۔
 
اسپیکر کی مداخلت
 
ہنگامہ بڑھنے پر لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے مداخلت کرتے ہوئے اراکین سے اپیل کی کہ وہ بل پر تعمیری بحث کریں اور ایسے بیانات سے گریز کریں جن سے غیر ضروری تنازع پیدا ہو۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی معاملے کی جانچ یا کارروائی کا مطالبہ کرنا ہے تو اسے قواعد کے مطابق اٹھایا جائے اور کسی فرد پر بغیر ثبوت الزام نہ لگایا جائے۔ اس دوران راہل گاندھی نے اپنے مؤقف کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ احتجاج کے دوران طاقت کے استعمال کی اجازت اعلیٰ سطح پر ہی دی جا سکتی ہے۔
 
کرن رجیجو کا مطالبہ
 
کرن رجیجو نے دوبارہ مطالبہ کیا کہ اگر وزیر داخلہ کے خلاف لگائے گئے الزام کی کوئی دستاویزی بنیاد موجود ہے تو اسے ایوان میں پیش کیا جائے، بصورت دیگر قائد حزب اختلاف کو اپنا بیان واپس لے کر معافی مانگنی چاہیے۔ شدید ہنگامہ آرائی کے باعث اسپیکر نے کہا کہ ایوان قواعد کے مطابق چلنا چاہیے اور تمام ارکان کو ذمہ داری کے ساتھ اظہار خیال کرنا چاہیے۔ مسلسل شور شرابے کے بعد لوک سبھا کی کارروائی دوپہر 2:30 بجے تک ملتوی کر دی گئی۔