لوک سبھا میں عوامی امتحانات (ترمیمی) بل، 2026 پر جاری بحث کے دوران مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے نیٹ پیپر لیک کے خلاف طلبہ کے احتجاج اور اس دوران پولیس کی کارروائی سے متعلق حکومت کا مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ مظاہروں کے دوران مظاہرین پر کسی بھی قسم کی گولی نہیں چلائی گئی۔
بحث میں حصہ لیتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ بعض سیاسی رہنماؤں کی جانب سے یہ سوال اٹھایا گیا کہ مظاہرین کے خلاف کارروائی کا حکم کس نے دیا، تاہم ان کے مطابق اس حوالے سے کیے جانے والے کئی دعوے حقائق پر مبنی نہیں ہیں۔ مرکزی وزیر نے واضح کیا کہ احتجاج کے دوران ہجوم کو منتشر کرنے اور صورتحال پر قابو پانے کے لیے صرف آنسو گیس کے شیل استعمال کیے گئے تھے، جبکہ کسی بھی مقام پر مظاہرین کے خلاف فائرنگ نہیں کی گئی۔
طاقت کے استعمال کا حکم وزیر نہیں، مجسٹریٹ دیتا ہے
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ اگر کسی غیر معمولی صورتحال میں طاقت کے استعمال یا ہتھیاروں کے استعمال کی ضرورت پیش آئے تو اس کا فیصلہ کسی وزیر کی جانب سے نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی قانون کے مطابق ایسے احکامات جاری کرنے کا اختیار متعلقہ مجسٹریٹ کے پاس ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کسی مرکزی وزیر پر یہ الزام عائد کرنا کہ انہوں نے طاقت کے استعمال یا فائرنگ کا حکم دیا، قانونی عمل اور انتظامی طریقۂ کار کے مطابق درست نہیں ہے۔
مرکزی وزیر نے زور دیا کہ حکومت امتحانی نظام میں شفافیت لانے اور پیپر لیک جیسے واقعات کی روک تھام کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے، جبکہ احتجاج کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حالات کو قابو میں رکھنے کے لیے قانونی ضابطوں کے مطابق کارروائی کی۔ادھر اپوزیشن جماعتیں احتجاج کے دوران پولیس کی کارروائی اور طلبہ کے ساتھ مبینہ زیادتیوں کا معاملہ مسلسل اٹھا رہی ہیں، جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ احتجاج سے نمٹنے کے دوران قانون کے مطابق کارروائی کی گئی اور مظاہرین پر کسی قسم کی فائرنگ نہیں کی گئی۔