Monday, February 02, 2026 | 14, 1447 شعبان
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • انڈونیشیا میں عاشق جوڑے کو کیوں سر عام 140 کوڑے مارنے کی دی گئی سزا؟ جانیے وجہ

انڈونیشیا میں عاشق جوڑے کو کیوں سر عام 140 کوڑے مارنے کی دی گئی سزا؟ جانیے وجہ

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: sahjad mia | Last Updated: Jan 31, 2026 IST

انڈونیشیا میں عاشق جوڑے کو کیوں سر عام 140 کوڑے مارنے کی دی گئی سزا؟ جانیے وجہ
انڈونیشیا کے صوبہ آچے میں شرعی قانون کے تحت ایک غیر شادی شدہ  عاشق جوڑے کو 140-140کوڑوں کی سزا دی گئی ۔ دونوں پر شادی سے پہلے جنسی تعلقات قائم کرنے اور شراب پینے کا الزام تھا، جو آچے میں نافذ اسلامی شرعی قانون کے تحت سنگین جرم ہے۔ حکام کے مطابق، حالیہ برسوں میں دی گئی یہ سزا سب سے سخت سزاؤں میں شامل ہے۔خیال رہے کہ انڈونیشیا دنیا کا سب سے بڑا مسلم اکثریتی ملک ہے، قومی سطح پر یہاں سیکولر قوانین نافذ ہیں۔ لیکن آچے واحد صوبہ ہے جہاں مکمل طور پر شرعی قانون نافذ ہے۔
 
عوامی پارک میں دی گئی سزا:
 
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ سزا دارالحکومت بانڈا آچے کے ایک عوامی پارک میں دی گئی۔ موقع پر بڑی تعداد میں مقامی لوگ موجود تھے۔ شرعی پولیس نے دونوں مجرموں کوایک -ایک کرکے کو ڑے مارے۔کوڑے لگنے کے دوران 21 سالہ لڑکی  بے ہوش ہو گئی، جس کے بعد اسے فوری طور پر ایمبولینس سے ہسپتال لے جایا گیا۔ 
 
140 کوڑوں کی سزا کیسے طے ہوئی:
 
شرعی پولیس کے مطابق، دونوں کو شادی سے پہلے جنسی تعلقات کے لیے 100 کوڑے اور شراب پینے کے لیے 40 کوڑے مارنے کا حکم دیا گیا ۔ شرعی پولیس کے سربراہ محمد رجال نے کہا کہ 2001 میں اس خطے میں شرعی قانون کے نفاذ کے بعد سے یہ سب سے سخت ترین سزاؤں میں سے ایک ہے۔ اگرچہ کوڑوں کی تعداد عام طور پر کم ہوتی ہے، لیکن دو جرائم (شراب اور جنسی) کی مشترکہ سزا نے سزا کو بڑھا کر 140 کر دیا ۔
 
آچے میں ہی کیوں نافذ ہے شرعی قانون:
 
آچے صوبے کی قانونی حیثیت انڈونیشیا کے باقی حصوں سے مختلف ہے۔ طویل عرصے تک جاری علیحدگی پسند جدوجہد کے بعد 2001 میں مرکزی حکومت نے آچے کو خصوصی خودمختاری دی تھی۔ اسی خودمختاری کے تحت آچے کو اسلامی شرعی قانون نافذ کرنے کی اجازت ملی۔ شرعی قانون کے تحت غیر شادی شدہ جنسی تعلقات، شراب پینا، جوا کھیلنا اور ہم جنس پرستی جیسے معاملات کو جرم سمجھا جاتا ہے۔ ان جرائم کے لیے عوامی طور پر کوڑے مارنے کی سزا دی جاتی ہے، جسے سماجی کنٹرول اور خوف پیدا کرنے کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔
 
شرعی پولیس افسر بھی سزا سے نہیں بچا:
 
اس معاملے میں ایک اور خبر سامنے ہے۔ کل چھ لوگوں کو اسلامی اخلاقی ضابطے کی خلاف ورزی پر سزا دی گئی، جن میں ایک شرعی پولیس افسر اور اس کی خاتون ساتھی بھی شامل تھے۔ دونوں کو 23-23 کوڑے مارے گئے۔ شرعی پولیس کے سربراہ محمد رجال نے کہا کہ قانون سب کے لیے برابر ہے اور کسی کو بھی رعایت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ ایسےواقعات سے محکمے کی ساکھ کو نقصان پہنچتا ہے، لیکن قوانین کی پابندی میں کوئی استثنیٰ نہیں کیا جا سکتا۔