• News
  • »
  • کھیل/تفریح
  • »
  • اتراکھنڈ: رشوت کا الزام لگانے والی تائیکوانڈو کھلاڑی کا نیا بیان، مچا ہڑکمپ

اتراکھنڈ: رشوت کا الزام لگانے والی تائیکوانڈو کھلاڑی کا نیا بیان، مچا ہڑکمپ

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Aug 13, 2026 IST

اتراکھنڈ: رشوت کا الزام لگانے والی تائیکوانڈو کھلاڑی کا نیا بیان، مچا ہڑکمپ
اتراکھنڈ میں وزیراعلیٰ پشکر سنگھ دھامی کی موجودگی میں کھیل کے محکمے اور اسپورٹس ایسوسی ایشن پر 1.5 لاکھ روپے کی رشوت مانگنے کا سنسنی خیز الزام لگانے والی قومی تائیکوانڈو کھلاڑی کا ایک نیا ویڈیو بیان سامنے آیا ہے۔ اس نئی ویڈیو میں ایتھلیٹ نے اپنے سابقہ دعووں پر وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس دن وزیر اعلیٰ کے سامنے اپنے معاملے اور تمام حقائق کو درست اور مکمل انداز میں پیش کرنے میں ناکام رہی تھیں۔
 
معاملے کی تفصیلات کے مطابق، کچھ روز قبل ریاست میں منعقدہ ایک عوامی تقریب کے دوران اس باصلاحیت تائیکوانڈو کھلاڑی نے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی سے براہ راست فریاد کی تھی۔ کھلاڑی کا کہنا تھا کہ قومی سطح پر شاندار کارکردگی دکھانے اور گولڈ میڈل (سونے کا تمغہ) حاصل کرنے کے باوجود، انہیں بین الاقوامی مقابلے میں بھارت کی نمائندگی کرنے کے موقع سے محروم کیا جا رہا ہے۔ ایتھلیٹ نے کھلے عام الزام عائد کیا تھا کہ متعلقہ حکام اور انتظامیہ کی جانب سے ان سے بین الاقوامی سطح کے ایونٹ میں بھیجنے اور سلیکشن کلیئرنس دینے کے بدلے 1.5 لاکھ روپے کی رشوت کا مطالبات کیا جا رہا تھا، اور رقم نہ دینے کی صورت میں ان کا کیریئر داؤ پر لگا دیا گیا ہے۔
 
یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر جنگل کی آگ کی طرح وائرل ہو گئی تھی، جس کے بعد اتراکھنڈ میں کھیل انتظامیہ کی شفافیت پر سنگین سوالات کھڑے ہو گئے تھے۔ حکومت نے بھی معاملے کی سنجیدگی کو دیکھتے ہوئے فوری تحقیقات کی یقین دہانی کرائی تھی۔
 
تاہم، اب منظر عام پر آنے والی نئی ویڈیو نے اس پورے تنازع کو ایک نیا موڑ دے دیا ہے۔ وائرل ہونے والی تازہ ویڈیو میں ایتھلیٹ کا کہنا ہے، "اس دن حالات، جذباتی دباؤ اور گھبراہٹ کی وجہ سے میں وزیر اعلیٰ کے سامنے اپنا کیس پوری طرح پیش نہیں کر سکی تھی اور کچھ باتیں نامکمل رہ گئی تھیں۔" کھلاڑی کی اس مفاہمانہ اور محتاط ویڈیو کے سامنے آنے کے بعد کھیل کے حلقوں میں چہ مگوئیاں تیز ہو گئی ہیں۔
 
کھیل کے ماہرین اور سوشل میڈیا صارفین کی ایک بڑی تعداد کا خدشہ ہے کہ کھلاڑی پر اپنے بیانات سے پیچھے ہٹنے یا انہیں نرم کرنے کے لیے کھیل کے محکمے اور بااثر حکام کی طرف سے شدید دباؤ ڈالا گیا ہے۔ دوسری جانب، ریاستی حکومت کا کہنا ہے کہ کھلاڑی کے اس نئے بیان کے باوجود بنیادی الزامات کی غیر جانبدارانہ اور مکمل تفتیش کی جائے گی تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ آیا کھیل ایسوسی ایشن میں مالی بدعنوانی کا کوئی عنصر موجود تھا یا معاملے کی کچھ اور وجوہات تھیں۔