بھارت میں خواتین کے 33 فیصد ریزرویشن بل پر سیاسی بحث شدت اختیار کر گئی ہے۔ کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے کہا ہے کہ اپوزیشن خواتین کی ریزرویشن کے خلاف نہیں ہے، تاہم حکومت جس طریقے سے یہ بل پیش کر رہی ہے اس پر تحفظات ہیں۔
نئی دہلی میں انڈیا اتحاد (INDIA Bloc) کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کھرگے نے کہا کہ "ہم سب خواتین ریزرویشن کے حق میں ہیں، لیکن جس انداز میں حکومت یہ بل لا رہی ہے وہ سیاسی مقاصد پر مبنی ہے۔" ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن متحد ہے اور حد بندی (Delimitation) سے متعلق بل کی مخالفت کرے گی۔
انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت آئینی اداروں کے اختیارات کم کر کے انتظامیہ کے ذریعے فیصلے مسلط کر رہی ہے اور مردم شماری مکمل کیے بغیر حد بندی جیسے حساس معاملات آگے بڑھائے جا رہے ہیں۔
یہ اجلاس کانگریس صدر کی رہائش گاہ پر منعقد ہوا جس میں راہل گاندھی، ٹی آر بالو (ڈی ایم کے)، تیجسوی یادو (آر جے ڈی)، سنجے راوت (شیو سینا-یو بی ٹی)، عمر عبداللہ (جے کے این سی)، سپریا سولے (این سی پی-ایس پی)، سنجے سنگھ (اے اے پی) اور دیگر اپوزیشن رہنما شریک ہوئے۔
اجلاس میں خواتین ریزرویشن، حد بندی اور لوک سبھا نشستوں میں اضافے جیسے معاملات پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا تھا کہ حکومت ان تینوں مختلف معاملات کو آپس میں ملا کر عوام میں کنفیوژن پیدا کر رہی ہے۔
دوسری جانب پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے کہا ہے کہ کوئی بھی پارٹی اصولی طور پر خواتین ریزرویشن کی مخالف نہیں ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ لوک سبھا میں بھی کسی جماعت نے اس بل کی مخالفت نہیں کی تھی، اور تمام سیاسی جماعتیں اس معاملے پر ایک مؤقف رکھتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر اس عمل میں تاخیر ہوئی تو یہ افسوسناک ہوگا، کیونکہ ملک گزشتہ 40 سال سے خواتین ریزرویشن کا انتظار کر رہا ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس سے قبل ایک بار پھر زور دیا کہ 2029 کے لوک سبھا انتخابات سے 33 فیصد خواتین ریزرویشن نافذ کرنا قوم کی خواہش ہے۔
یہ معاملہ اس وقت بھارت کی سیاست کا اہم موضوع بنا ہوا ہے، جہاں حکومت اور اپوزیشن دونوں اپنی اپنی پوزیشن پر قائم ہیں اور پارلیمنٹ میں اس پر سخت بحث کا امکان ہے۔