لوک سبھا اسپیکر کی برطرفی کی تحریک پر پارلیمنٹ میں بحث کے بعد چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف مواخذے کی تحریک پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ امکان ہے کہ ترنمول کانگریس کی قیادت میں متحدہ اپوزیشن جمعرات کو سی ای سی کے خلاف مواخذے کا نوٹس داخل کرے گی۔ نوٹس پر 120 لوک سبھا اور 60 راجیہ سبھا ممبران کے دستخط ہیں۔ ترنمول کی حکمت عملی مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں ووٹر لسٹ کے ایس آئی آر کو ایک بڑا مسئلہ بنانا ہے۔
گزشتہ روز کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کے چیمبر میں منعقدہ میٹنگ کے دوران مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی انتخابی مہم پر اتفاق رائے ہو گیا۔ راہول گاندھی اور ایس پی سربراہ اکھلیش یادو نے ترنمول کی تجویز کی حمایت کی۔ اس کے بعد نوٹس کیلئے مطلوبہ دستخط جمع کیے گئے۔ دونوں ایوانوں میں نوٹس دائر کرنے کا منصوبہ ہے۔ مواخذے کے عمل میں لوک سبھا میں 100 اور راجیہ سبھا میں 50 ممبران پارلیمنٹ کے دستخطوں کی ضرورت ہوتی ہے۔
واضح رہے کہ سی ای سی کو ہٹانے کیلئے وہی طریقہ کار اپنانا ہوگا جو سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ججوں کو ہٹانے کیلئے ہے۔اپوزیشن چاہتی ہے کہ اس سیشن میں ہی مواخذے کی تحریک پر بحث کی جائے تاکہ اپریل مئی میں بنگال اسمبلی کے انتخابات میں ایس آئی آر کو ایک بڑا مسئلہ بنایا جا سکے۔ عمل شروع کرنے اور اہم بحث کیلئے 14 دن کا نوٹس درکار ہے۔ اگر جمعرات کو نوٹس دیا گیا تو اس اجلاس میں ہی اس تحریک پر بحث کی جائے گی۔