ایران کا امریکہ اور اسرائیل کے خلاف پچھلے کئی دنوں سے جنگ جاری ہے۔ اس دوران یورپی یونین نے ایران کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔ یورپی یونین نے ایران پر دباؤ ڈالنے کے لیے سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزام میں 19 ایرانی حکام اور اداروں پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔تاہم، نئی پابندیوں کے پیکج کو نافذ ہونے سے پہلے ابھی یورپی یونین کی کونسل سے رسمی منظوری کی ضرورت ہے۔
وہیں امریکہ اور اسرائیل پر ایک بھی پابندی کیوں نہیں لگائی گئی؟ جنہوں نے ایران میں ہسپتالوں، اسکولوں، میڈیکل سینٹرز، ریڈ کراسنٹ مراکز، ایمبولینسوں، میٹرو سٹیشنوں اور عام شہریوں کے گھروں پر بمباری کی ہے، جس میں تقریباً 1300 سے زیادہ عام لوگوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔
امریکہ نے ایران کے شہر مناب میں ایک لڑکیوں کے اسکول پر میزائلوں سے حملہ کیا، جس میں تقریباً 165 افراد ہلاک ہوئے، جن میں زیادہ تر نابالغ معصوم طالبات تھیں۔ ان جنگ کے جرائم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے باوجود EU نے امریکہ اور اسرائیل پر ایک بھی پابندی کا اعلان نہیں کیا۔
EU کی خارجہ امور اور سیکیورٹی پالیسی کی ہائی ریپریزنٹیٹو کاجا کیلاس نے اس اقدام کا اعلان کیا۔ انہوں نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں لکھا:EU ایران کو جوابدہ ٹھہراتا رہے گا۔ آج، EU کے رکن ممالک کے سفیروں نے سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے ذمہ دار 19 ایرانی حکومتی افسران اور اداروں پر نئی پابندیوں کی منظوری دی ہے۔
اس سے پہلے EU نے ایران کی ریولوشنری گارڈ کور (IRGC) کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا تھا، جس کے جواب میں ایران نے بھی جوابی کاروائی کرتے ہوئے یورپ کی فوج کو دہشت گرد گروپس کی فہرست میں شامل کر دیا تھا۔
یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب ایران پر امریکہ-اسرائیل کی مشترکہ حملوں میں شہریوں کی ہلاکتیں بڑھ رہی ہیں، اور بین الاقوامی سطح پر جنگ کے جرائم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔