Monday, February 02, 2026 | 14, 1447 شعبان
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ ڈیل!بات چیت کے لیے فریم ورک ہو رہا ہے تیار

امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ ڈیل!بات چیت کے لیے فریم ورک ہو رہا ہے تیار

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: sahjad mia | Last Updated: Feb 01, 2026 IST

امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ ڈیل!بات چیت کے لیے فریم ورک  ہو رہا ہے تیار
امریکہ گزشتہ کئی ہفتوں سے ایران پر حملے کا دباؤ ڈال رہا ہے۔ امریکہ کے دو ایئر کرافٹ کیریئرز (ابراہم لنکن اور دوسرا ایئر کرافٹ کیریئر) سٹرائیک گروپ کے ساتھ ایران کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متعدد بار دہرایا ہے کہ انہوں نے ایران کے خلاف بھاری بھرکم فوجی تعیناتی کر دی ہے اور دو ایئر کرافٹ کیریئرز بھیجے ہیں۔ انہوں نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کو ڈیل کر لینی چاہیے، ورنہ فوجی کاروائی کی جائے گی۔
 
اسی سلسلے میں ایران کے ایک سینئر سیکیورٹی افسر نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ ممکنہ بات چیت کے لیے ایک فریم ورک تیار کیا جا رہا ہے۔ ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' (سابقہ ٹوئٹر) پر لکھا:بات چیت کے ڈھانچے کی تشکیل کا عمل آگے بڑھ رہا ہے۔وہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی تصدیق کی کہ دونوں فریق بات چیت کر رہے ہیں۔ اس سے قبل اسلامی جمہوریہ ایران کے آرمی چیف نے واشنگٹن کو فوجی حملوں کے خلاف خبردار کیا۔
 
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ بیان جمعہ کو ماسکو میں روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات کے بعد سامنے آیا، جس میں اقتصادی تعاون کے علاوہ اہم علاقائی اور بین الاقوامی مسائل پر بات چیت ہوئی۔ 
 
یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان تناؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی مزید مضبوط کی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایک بہت بڑا بحری بیڑا (جس کی قیادت ایئر کرافٹ کیریئر ابراہم لنکن کر رہا ہے) ایران کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق یہ بیڑا وینزویلا بھیجے گئے بیڑے سے بھی بڑا ہے۔ اس سے دونوں ممالک کے درمیان ٹکراؤ کا خطرہ بڑھتا نظر آ رہا ہے، البتہ واشنگٹن نے عوامی طور پر سفارت کاری کی امکان بھی ظاہر کی ہے۔
 
جمعہ 30 جنوری کو اسرائیلی دفاعی افواج نے بتایا کہ امریکی گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائر یو ایس ایس ڈیلبرٹ ڈی بلیک نے ریڈ سی میں ایلات پورٹ پر ایک معمول کا ٹھہراؤ کیا۔ یہ امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری فوجی تعاون کی عکاسی کرتا ہے۔
 
اسی دن ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے تہران کو براہ راست ایک ٹائم لائن (ڈیڈ لائن) دی ہے، لیکن اس بارے میں مزید تفصیلات شیئر کرنے سے انکار کر دیا۔ ہفتہ کو فاکس نیوز کی رپورٹر جیکی ہینرک نے 'ایکس' پر لکھا کہ انہوں نے ٹرمپ کا انٹرویو لیا ہے، جس میں صدر نے کہا کہ امریکہ بات چیت جاری رکھنا چاہتا ہے اور نتیجہ حاصل کرنے کی امید رکھتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ واشنگٹن نے اپنے مشرق وسطیٰ کے اتحادیوں کو ایران سے متعلق اپنے اقدامات کی معلومات نہیں دیں۔
 
ایران نے پہلے ہی اشارہ دیا ہے کہ وہ بات چیت کے لیے تیار ہے، لیکن صرف اسی صورت میں جب بات چیت منصفانہ ہو اور کسی قسم کے دباؤ یا دھمکی کے بغیر ہو۔ اسی دوران ایران کے آرمی چیف امیر حاتمی نے خبردار کیا کہ اگر امریکہ کوئی غلطی کرتا ہے تو اس سے اس کی اپنی سلامتی کے ساتھ ساتھ اسرائیل اور پورے مغربی ایشیا کے علاقے کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
 
ادھر یمن کے ایک فوجی ذرائع نے کہا کہ حوثی گروپ نے علاقائی تناؤ کے درمیان اپنی جنگی تیاری بڑھانے کے لیے کئی فوجی اقدامات کیے ہیں، جن میں ایران پر ممکنہ امریکی حملے کی تشویش بھی شامل ہے۔
 
یہ صورتحال دونوں فریقوں کی طرف سے ڈپلومیسی اور فوجی دباؤ کے امتزاج کو ظاہر کرتی ہے، جہاں ٹرمپ نے مذاکرات کی امید ظاہر کی ہے جبکہ ایران نے بھی بات چیت کے ڈھانچے کی پیشرفت کی تصدیق کی ہے۔