صدر جمہوریہ دروپدی مرمو آج سے آندھراپردیش کا دو روزہ دورہ کریں گی۔ اس دورانہ وہ وشاکھاپٹنم میں ہندوستانی بحریہ کے زیر اہتمام بین الاقوامی فلیٹ ریویو کا مشاہدہ کریں گی جو دوست ممالک کے جنگی جہازوں اور آبدوزوں کی ایک جماعت ہے جو اپنی فوجی مہارت کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ صدر جمہوریہ کل صبح وشاکھاپٹنم کے ریویو اینکریج ایریا میں جمع بیڑے کا جائزہ لیں گی۔
اس موقع پر ایک دیسی ساختہ نیول آف شور گشتی جہاز، آئی این ایس سمیدھا، صدارتی یاٹ کے طور پر کام کرے گا اور صدارتی کالم کی قیادت کرے گا۔اس جائزے میں ہندوستان اور دوست بیرونی ممالک کے لنگر انداز بحری جہاز، جنگی جہازوں اور آبدوزوں کے موبائل کالموں کے ذریعے ایک اسٹیمپسٹ اور بحریہ کے ہوائی جہاز کے ذریعے فلائی پاسٹ میں شامل ہوں گے۔ اس تقریب میں بحری جہازوں کی پریڈ، ہیلی کاپٹروں کے ذریعے تلاش اور بچاؤ کے مظاہرے اور میرین کمانڈوز کے ڈسپلے بھی ہوں گے۔
ملن 2026 کا بھی انعقاد
آئی ایف آر 2026 کے تحت بین الاقوامی سٹی پریڈ، ثقافتی نمائشیں اور عوامی پروگرام بھی منعقد کیے جائیں گے۔ ان کا مقصد عالمی بحری ورثے کا جشن منانا ہے۔ وشاکھاپٹنم میں بھارتی بحریہ کی اہم کثیرالجہتی مشق ‘ملن 26’ کا 13واں ایڈیشن بھی منعقد ہو رہا ہے۔ یہ مشق خلیجِ بنگال میں مشرقی بحری کمان کی قیادت میں ہو رہی ہے۔ اس میں 135 سے زائد ممالک کو مدعو کیا گیا ہے۔
ملن مشق کا مقصد دوست ممالک کی بحری افواج کے درمیان پیشہ ورانہ تعلقات کو مضبوط بنانا، تجربات کا بہتر تبادلہ کرنا اور سمندری تعاون کو فروغ دینا ہے۔ اس مشق کے دوران بڑے پیمانے پر مشترکہ بحری آپریشنز کیے جائیں گے، جس سے تمام ممالک کی بحری افواج کو مل کر کام کرنے کا عملی تجربہ حاصل ہوگا۔ اس کے علاوہ شہر میں انڈین اوشن نیول سمپوزیم کانفرنس بھی منعقد کی جا رہی ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ بھارت بیک وقت تین بڑے بحری پروگراموں کی میزبانی کر رہا ہے۔
پہلا آئی ایف آر سن 2001 میں منعقد کیا گیا تھا، جب اُس وقت کے صدر کے آر نارائنن نے آئی این ایس سکنیا سے بیڑے کا معائنہ کیا تھا۔ دوسرا آئی ایف آر سن 2016 میں وشاکھاپٹنم میں ہوا تھا، جس میں خلیجِ بنگال میں پہلے سے کہیں زیادہ ممالک کی بحری افواج نے شرکت کی تھی۔ 50 ممالک سے تقریباً 100 جنگی جہاز شریک ہوئے تھے۔ یہ بھارتی سمندری خطے میں جنگی جہازوں کا اب تک کا سب سے بڑا اجتماع تھا۔ اُس وقت کے صدر پرنب مکھرجی نے آئی این ایس سُمترا سے بیڑے کا معائنہ کیا تھا، اور اُن کے ساتھ وزیرِ اعظم نریندر مودی اور اُس وقت کے وزیرِ دفاع منوہر پاریکر بھی موجود تھے۔