مغربی بنگال کے دارالحکومت کولکتہ کے مشہور آر جی کر میڈیکل کالج اینڈ ہسپتال میں پیش آنے والے دلخراش سانحے کی متاثرہ (ابھیا) کی والدہ اور بھارتی جنتا پارٹی (بی جے پی) کی موجودہ رکن اسمبلی (ایم ایل اے) رتنا دیبناتھ کے ایک حالیہ بیان نے ریاست میں سیاسی اور سماجی بحث کو ایک بار پھر گرم کر دیا ہے۔ رتنا دیبناتھ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ان کی بیٹی کے ساتھ پیش آنے والے جگر سوز واقعے کا موازنہ عصمت دری اور قتل کے دیگر عام واقعات سے نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کے اس بیان کے بعد مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں میں زبردست ردعمل اور بحث کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔
بیان کے خلاف تنقیدی ردعمل اور تحفظات
رتنا دیبناتھ کے اس متنازع بیان پر ناقدین اور اپوزیشن رہنماؤں نے شدید تنقید کا اظہار کیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں اور سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ خواتین کے خلاف سنگین جرائم، بالخصوص عصمت دری اور تشدد جیسے حساس اور دردناک موضوعات کو سیاسی بیانیے کے لیے استعمال کرتے وقت انتہائی احتیاط اور سنجیدگی برتنی چاہیے۔ ناقدین کے مطابق ہر متاثرہ فرد اور اس کے خاندان کا دکھ یکساں اور ناقابل تلافی ہوتا ہے، اس لیے کسی ایک واقعے کی نوعیت کو دوسرے سے الگ کر کے دیکھنا تمام متاثرین کی تکلیف اور جدوجہد کو کم تر دکھانے کے مترادف ہو سکتا ہے۔
مخالفین نے اس سوال کو بھی زور شور سے اٹھایا ہے کہ کیا ایسے اندوہناک مقدمات کو سیاسی مفادات یا منتخب مقاصد کے تحت استعمال کیا جا رہا ہے؟ ان کا موقف ہے کہ خواتین کے تحفظ کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے ضروری ہے کہ تمام جرائم کے خلاف بلاامتیاز اور یکساں آواز اٹھائی جائے۔
حامیوں کا موقف اور انصاف کی جدوجہد
دوسری جانب، رتنا دیبناتھ کے حامیوں اور بی جے پی رہنماؤں نے ان کے بیان کا دفاع کرتے ہوئے اسے ایک غمزدہ ماں کا فطری ردعمل قرار دیا ہے۔ حامیوں کا کہنا ہے کہ رتنا دیبناتھ نے اپنی بیٹی کے وحشیانہ قتل کے بعد سے لے کر اب تک مسلسل ناانصافی کے خلاف آواز بلند کی ہے۔
ان کے مطابق، سیاست میں ان کی شمولیت بھی اپنی بیٹی کے لیے انصاف کے حصول اور خواتین کے قانونی اور سماجی تحفظ کے نظام کو بہتر بنانے کی ایک کڑی ہے۔ حامیوں کا دعویٰ ہے کہ آر جی کر کیس کا دائرہ کار صرف ایک جرم تک محدود نہیں تھا بلکہ اس نے طبی اداروں کی بدنظمی اور ہسپتالوں میں وائٹ کالر جرائم و سیکورٹی کی سنگین خامیوں کو بے نقاب کیا تھا، اسی تناظر میں ایم ایل اے نے اس کیس کی انفرادیت کی بات کی تھی۔
سیاسی اختلافات اور بنیادی انصاف کا سوال
آر جی کر میڈیکل کالج کیس نے پہلے ہی پورے ملک میں خواتین کی حفاظت، ورک پلیس پر سیکورٹی اور ہسپتالوں جیسے حساس اداروں میں ڈاکٹروں کے تحفظ پر گہرے سوالات قائم کر رکھے ہیں۔ ایسے میں ایم ایل اے رتنا دیبناتھ کے تازہ بیان نے اس بنیادی بحث کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے کہ کیا اتنے سنگین اور دل دہلا دینے والے مقدمات کو سیاسی الزام تراشیوں اور انتخابی مفادات سے الگ رکھا جا سکتا ہے؟
ماہرینِ قانون اور حقوقِ نسواں کے کارکنوں کا مسلسل یہ زور رہا ہے کہ کسی بھی ریاست میں قانون کی بالادستی کا اصل معیار یہ ہے کہ ہر متاثرہ شخص کو بلاامتیاز، شفاف تحقیقات اور فوری قانونی تحفظ فراہم کیا جائے۔ موجودہ تنازع ایک بار پھر اس بات کی یاد دہانی کرواتا ہے کہ خواتین کی سلامتی کے مسئلے کو سیاسی بیان بازی سے پاک رکھ کر صرف اور صرف شفاف تحقیقات، مجرموں کو سخت سزا دینے اور متاثرین کے حقوق کی پاسداری پر مرکوز رکھا جانا چاہیے۔