Wednesday, September 09, 2026 | 25 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • سیاست
  • »
  • بامبے ہائی کورٹ سے راہل گاندھی کو جھٹکا، عدالت نے سمن منسوخ کرنے سے کیا انکار

بامبے ہائی کورٹ سے راہل گاندھی کو جھٹکا، عدالت نے سمن منسوخ کرنے سے کیا انکار

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Sep 09, 2026 IST

بامبے ہائی کورٹ سے راہل گاندھی کو جھٹکا، عدالت نے سمن منسوخ کرنے سے کیا انکار
بامبے ہائی کورٹ نے کانگریس رکن پارلیمنٹ اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کو بڑا جھٹکا دیتے ہوئے 2019 میں ان کے خلاف جاری کیے گئے سمن کو منسوخ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ یہ معاملہ وزیراعظم نریندر مودی کے خلاف ان کے مبینہ ’کمانڈر ان تھیف‘ ریمارک سے متعلق ہتک عزت کی شکایت کا ہے۔ جسٹس این آر بورکر کی سنگل بنچ نے مجسٹریٹ کورٹ کے حکم کو چیلنج کرنے والی راہل گاندھی کی درخواست خارج کر دی۔ عدالت نے کہا کہ اسے مجسٹریٹ کے حکم میں کوئی ایسی ’غلطی یا غیر قانونی کارروائی‘ نظر نہیں آئی، جس کی بنیاد پر ہائی کورٹ کو مداخلت کرنی چاہیے۔
 
تاہم، ہائی کورٹ نے اپنے 2021 کے حکم کو برقرار رکھا ہے، جس کے تحت مجسٹریٹ کو شکایت پر کارروائی چھ ہفتوں کے لیے ملتوی کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ اس کا مقصد راہول گاندھی کو ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا موقع دینا ہے۔یہ معاملہ 2019 میں مجسٹریٹ کورٹ کے اس حکم سے متعلق ہے، جس میں بی جے پی کارکن کے طور پر شناخت کرانے والے ایم ایچ شری شریمل کی شکایت پر راہول گاندھی کے خلاف فوجداری کارروائی شروع کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔
 
شکایت کے مطابق، راہل گاندھی نے 2018 میں رافیل لڑاکا طیارہ سودے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کے خلاف ’کمانڈر ان تھیف‘ کا ریمارک کیا تھا۔ شکایت کنندہ کا الزام ہے کہ یہ بیان راجستھان میں ایک عوامی ریلی کے دوران دیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ راہل گاندھی کے ’ایکس‘ اکاؤنٹ پر بھی اسی نوعیت کی ویڈیو پوسٹ کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ شکایت کنندہ نے الزام عائد کیا کہ ان بیانات سے وزیراعظم مودی کی ساکھ کو نقصان پہنچا اور بی جے پی کے ارکان و وزیراعظم سے وابستہ شہریوں پر بھی چوری جیسے الزامات کا تاثر پیدا ہوا۔
 
دوسری جانب راہل گاندھی کی جانب سے پیش وکیل سدیپ پاسبولا اور کشال مور نے عدالت میں دلیل دی کہ شکایت بے بنیاد ہے اور شکایت کنندہ کو یہ مقدمہ دائر کرنے کا قانونی حق حاصل نہیں تھا۔ہائی کورٹ نے ان دلائل کے باوجود مجسٹریٹ کے حکم میں مداخلت سے انکار کرتے ہوئے راہل گاندھی کی درخواست خارج کر دی۔ اب چھ ہفتوں کی مہلت کے دوران اس معاملے میں سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا راستہ راہل گاندھی کے لیے کھلا ہے۔