• News
  • »
  • سیاست
  • »
  • راہل گاندھی نے جنتر منتر سے متعلق دہلی یونیورسٹی کی ہدایت پر سوال اٹھا دیے

راہل گاندھی نے جنتر منتر سے متعلق دہلی یونیورسٹی کی ہدایت پر سوال اٹھا دیے

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Jul 24, 2026 IST

راہل گاندھی نے جنتر منتر سے متعلق دہلی یونیورسٹی کی ہدایت پر سوال اٹھا دیے
کانگریس کے سینئر رہنما اور لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے دہلی یونیورسٹی کی اس ہدایت پر سخت ردِعمل ظاہر کیا ہے، جس میں طلبہ کو جنتر منتر پر کسی بھی احتجاج یا اجتماع میں شرکت سے گریز کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ راہل گاندھی نے اس ہدایت کو طلبہ کے جمہوری حقوق سے جوڑتے ہوئے حکومت اور یونیورسٹی انتظامیہ پر سوالات اٹھائے۔
 
راہل گاندھی نے دہلی یونیورسٹی کی سوشل میڈیا پوسٹ کو شیئر کرتے ہوئے ایکس (X) پر لکھا، "آپ کی ہمت کیسے ہوئی کہ طلبہ کو ان کے جمہوری حقوق استعمال کرنے سے روکیں؟ یاد رکھیں، وقت آنے پر آپ کو اس کا جواب دینا ہوگا۔"
 
اس سے قبل دہلی یونیورسٹی نے جمعرات کو اپنے سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹ کے ذریعے طلبہ اور اساتذہ کے لیے ایک ہدایت جاری کی تھی۔ یونیورسٹی نے کہا کہ طلبہ کی حفاظت اس کی اولین ترجیح ہے، اس لیے انہیں جنتر منتر پر کسی بھی غیر قانونی احتجاج یا اجتماع میں شرکت سے گریز کرنا چاہیے۔
 
یونیورسٹی کے مطابق، سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت جنتر منتر پر احتجاج کے لیے مخصوص ضابطے نافذ ہیں، اور ان کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
 
اپنی ہدایت میں یونیورسٹی نے یہ بھی کہا کہ ایسے احتجاجی اجتماعات میں شرکت نہ صرف طلبہ کی ذاتی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے بلکہ ان کی تعلیمی کارکردگی اور مستقبل کے کیریئر پر بھی منفی اثر ڈال سکتی ہے۔ اسی لیے طلبہ سے اپیل کی گئی کہ وہ اپنی تعلیم، سلامتی اور قانون کی پابندی کو ترجیح دیں۔
 
دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو خبردار کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر بڑی مقدار میں گمراہ کن اور غیر مصدقہ معلومات پھیلائی جا رہی ہیں، جن کا مقصد حالات کو مزید کشیدہ بنانا ہے۔ یونیورسٹی نے طلبہ سے اپیل کی کہ وہ کسی بھی اطلاع پر یقین کرنے سے پہلے اس کی تصدیق کریں اور احتیاط سے کام لیں۔
 
دوسری جانب راہل گاندھی کے بیان کے بعد اس معاملے پر سیاسی بحث مزید تیز ہو گئی ہے۔ اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ طلبہ کو اپنے جمہوری حقوق استعمال کرنے سے نہیں روکا جانا چاہیے، جبکہ یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس ہدایت کا مقصد صرف طلبہ کی حفاظت اور قانون و ضابطے کی پابندی کو یقینی بنانا ہے۔