Thursday, February 12, 2026 | 24, 1447 شعبان
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • شبانہ محمود برطانیہ کی پہلی مسلم وزیر اعظم ہو سکتی ہیں؟

شبانہ محمود برطانیہ کی پہلی مسلم وزیر اعظم ہو سکتی ہیں؟

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Sahjad Alam | Last Updated: Feb 10, 2026 IST

شبانہ محمود برطانیہ کی پہلی مسلم وزیر اعظم ہو سکتی ہیں؟
جیفری ایپسٹین فائلز کے فوٹوز اور ویڈیوز کے ایکسپوز ہونے کے بعد پوری دنیا کی سیاست میں  ہلچل مچی ہوئی ہے، بڑے بڑے  تاجروں سمیت کئی اکابر سیاسی لیڈروں کی ایسی تصویریں سامنے آئی، جنکی کسی کو توقع نہیں تھی۔
 
وہیں برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر کو ایپسٹین فائلز سے منسلک مینڈیلسن کو اہم شخصیت کے طور پر مقرر کرنے پر تنقید کا سامنا ہے۔ پی ایم کیئر اسٹارمر نے پیٹر مینڈیلسن کو واشنگٹن میں برطانیہ کا سفیر مقرر کیا۔ تاہم، 2019 میں نیویارک کی جیل میں انتقال کر جانے والے سزا یافتہ پیڈو فائل فنانسر جیفری ایپسٹین کے ساتھ مینڈیلسن کے روابط کے انکشافات نے حکمران جماعت کے اندر کھلبلی مچادی ہے اور برطانوی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ یہ بھی خیال کیا جا رہا ہے کہ وزیر اعظم کیئر سٹارمر جلد ہی مستعفی ہونے پر مجبور ہو جائیں گے یا ان کو عہدے سے ہٹا دیا جائے گا۔
 
اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کی جگہ کون بنے گا۔ ان مباحثوں کے درمیان، شبانہ محمود، ایک 45 سالہ وکیل اور برطانیہ کی موجودہ سیکرٹری داخلہ، کو نمایاں طور پر وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کی ممکنہ جانشین کے طور پر سمجھا جا رہا ہے۔ اگر یہ سچ ثابت ہوتا ہے، تو یہ برطانوی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کرے گا: پاکستانی نژاد مسلمان خاتون ملک کے اعلیٰ ترین عہدے تک پہنچ جائے گی۔
 
شبانہ محمود کون ہیں؟
 
شبانہ محمود ایک 45 سالہ وکیل اور سیاست دان ہیں اور کیئر اسٹارمر کی قریبی ساتھی ہیں۔ لیبر پارٹی کے اندر، وہ ایک موثر اسپیکر اور لیبر پارٹی کے دائیں بازو کی ایک پرجوش کارکن کے طور پر پہچانی جاتی ہیں۔ شبانہ کی پیدائش برمنگھم میں زبیدہ اور محمود احمد کے ہاں ہوئی، جن کی جڑیں پاکستان اور پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر کے قصبے میرپور میں ہیں۔
 
 شبانہ نے 2002 میں آکسفورڈ کے لنکن کالج سے قانون کی ڈگری حاصل کی تھی، اور اگلے سال بیرسٹر بننے کے لیے انز آف کورٹ سکول آف لا سے بار ووکیشنل کورس مکمل کیا تھا۔
 
جانشین کے طور پر کئی لوگ میدان میں ہیں، لیکن شبانہ کی دعویٰ داری کئی اعتبار سے سب پر بھاری پڑ رہی ہے۔ ایک مسلمان ہونے کی وجہ سے ان میں فلسطین کے حامیوں اور ان دیگر لوگوں تک پہنچنے کی صلاحیت دیکھی جا رہی ہے جو حالیہ برسوں میں لیبر پارٹی سے دور ہو گئے تھے، کیونکہ لیبر پارٹی نے اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کا کھلے عام حمایت کی تھی جسے عالمی اداروں نے نسل کشی قرار دیا تھا۔ اس سے برطانیہ کی خراب ہوئی ساکھ کو بحال کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
 
برطانیہ میں شبانہ کا پالیسی ریکارڈ بھی بہت اچھا رہا ہے، خاص طور پر امیگریشن کے معاملے پر۔ ہوم سیکریٹری کے طور پر انہوں نے حال ہی میں ملک میں مستقل رہائش (سیٹلمنٹ یا ان ڈیفنائٹ لیو ٹو ریمین) کے راستے کو کم کرنے کے لیے متنازعہ منصوبہ پیش کیا تھا، جس کی دلیل یہ تھی کہ یہ ایک "خصوصی استحقاق ہے، حق نہیں"۔