• News
  • »
  • قومی
  • »
  • سونم وانگچک کا 26 روز بعد بھوک ہڑتال ختم، مگر دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ برقرار

سونم وانگچک کا 26 روز بعد بھوک ہڑتال ختم، مگر دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ برقرار

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Jul 24, 2026 IST

سونم وانگچک کا 26 روز بعد بھوک ہڑتال ختم، مگر دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ برقرار
نیٹ پیپر لیک معاملے پر جاری احتجاج کے دوران سماجی کارکن سونم وانگچک نے حکومت کی یقین دہانی کے بعد 26 روزہ غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال ختم کر دی۔ تاہم، احتجاج کی قیادت کرنے والی تنظیم کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) نے واضح کیا ہے کہ ان کے بنیادی مطالبات اب بھی برقرار ہیں، جن میں مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ سرفہرست ہے۔
 
سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال ختم ہونے سے پہلے بھی کئی مرتبہ  سی جے پی  کے بانی ابھیجیت نے ان کے صحت کو ترجیح دیتے ہوئے بھوک ہڑتال کو ختم کرنے کی اپیل کی تھی۔اب جب سونم وانگچک نے 26 روز بعد بھوک ہڑتال ختم کی اس کے ابھیجیت کا بیان سامنے آیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے واضح کیا کہ دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ ان کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک دھرمیندر پردھان استعفیٰ نہیں دیتے، وہ جنتر منتر سے نہیں ہٹیں گے۔
 
میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں سی جے پی  کے ترجمان نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کا سب سے اہم مطالبہ وزیر تعلیم کا استعفیٰ ہے۔ ان کے مطابق، جب تک ذمہ دار عہدیداروں کا احتساب نہیں ہوگا، تعلیمی نظام میں اصلاحات ممکن نہیں۔
 
انہوں  نے الزام لگایا کہ موجودہ تعلیمی نظام کی مبینہ ناکامیوں کے باعث متعدد طلبہ متاثر ہوئے ہیں اور کئی خاندان شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہزاروں طلبہ اور ان کے والدین تعلیم کے لیے قرض لیتے ہیں، برسوں محنت کرتے ہیں، لیکن پیپر لیک جیسے واقعات ان کی محنت اور مستقبل دونوں کو متاثر کرتے ہیں۔
 
انہوں نے مزید کہا کہ طلبہ صرف احتجاج نہیں کر رہے بلکہ وہ ایک شفاف، جوابدہ اور قابلِ اعتماد امتحانی نظام کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق، دھرمیندر پردھان کے استعفے سے ہی احتساب کا عمل شروع ہو سکتا ہے اور تعلیمی اصلاحات کی راہ ہموار ہوگی۔
 
سی جے پی  کے  ترجمان نے سونم وانگچک کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کا بھی ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وانگچک کو احتجاجی مقام سے ہٹانے کے دوران ان کے ساتھ مناسب رویہ اختیار نہیں کیا گیا، حالانکہ وہ پرامن احتجاج کر رہے تھے۔
 
انہوں نے 20 جولائی کو طلبہ کے خلاف ہونے والی پولیس کارروائی پر بھی سوال اٹھائے اور کہا کہ حکومت ایک طرف فاسٹ ٹریک عدالتوں میں مقدمات چلانے اور قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کی بات کرتی ہے، لیکن دوسری طرف وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔
 
سی جے پی کا کہنا ہے کہ احتجاج کا مقصد صرف ایک شخص کا استعفیٰ نہیں بلکہ پورے تعلیمی نظام میں شفافیت، جوابدہی اور طلبہ کے اعتماد کی بحالی ہے۔ تنظیم نے مطالبہ کیا کہ حکومت طلبہ کے خدشات کو سنجیدگی سے لے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرے۔