حج 2026 کی سعادت حاصل کرنے کے بعد حجاجِ کرام کی وطن واپسی کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ حجاجِ کرام کی پہلی پرواز جمعہ کی صبح حیدرآباد، راجیو گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ،شمس آباد پہنچی۔ ایئرپورٹ پر حجاج کرام کا شاندار استقبال کیا گیا۔ اس موقع پر ایئرپورٹ پر خوشی، مسرت اور جذباتی مناظر دیکھے گئے۔
تلنگانہ حج کمیٹی سے فریضہ حج کی تکمیل کے بعد حجاج کرام کی واپسی کا جمعہ 12 جون سے آغاز ہوگیا۔ فریضہ حج کی تکمیل کے بعد تلنگانہ کے حجاج کرام کی مدینہ منورہ روانگی کا آغاز ہوچکا ہے۔ مدینہ منورہ میں 7 دن قیام کے بعد حجاج کرام حیدرآباد واپس ہوئے۔ ائیر پورٹ پر تلنگانہ کے وزیر اقلیتی بہبود محمد اظہرالدین،ریاستی حج کمیٹی کے چئیرمین مولانا سیدغلام افضل بیابانی خسرو پاشاہ، مجلس کے رکن قا نون ساز کونسل مرزا رحمت بیگ اور دیگر نے حجاج کرام کا استقبال کیا۔ حجاج کرام کے استقبال کےلئے ریاستی حکومت اور حج کمیٹی کی جانب سے انتظامات کئے گئے۔ محمداظہر الدین نے حجاج کرام کو مبارکباد پیش کی۔ اور حج قبول کرنے کی دعا کی گئی۔
محمد اظہر الدین نے آئندہ سال بھی اچھے سے اچھے انتظامات کرنے کا عزم ظاہر کیا۔ اظہرالدین نے حج کمیٹی کے ذمہ داروں اور عملے اور ریاستی وزیراعلیٰ سے اظہار تشکرکیا۔ اس موقع پر حجاج کرام نے تلنگانہ حج کمیٹی اورسعودی حکومت کے انتظامات کی ستائش کی ۔ حجاج کرام نے کہا کہ بہت ہی اچھے انتظامات کئے گئے تھے۔ انہیں کوئی تکلیف نہیں ہوئی۔
اپنےعزیزوں کے استقبال کے لیے ایئرپورٹ پر بڑی تعداد میں اہلِ خانہ اور رشتہ دار موجود تھے۔ طویل عرصے بعد اپنے پیاروں سے ملاقات کے دوران کئی حجاج اور ان کے اہلِ خانہ جذباتی دکھائی دیے۔ ایئرپورٹ کا ماحول خوشی، دعاؤں اور نیک تمناؤں سے بھرپور رہا جبکہ حجاج کا استقبال پھولوں کے گلدستوں کے ساتھ کیا گیا۔ دوسرا قافلہ بھی دوپہر 3.15 بجے شمس آباد انٹرنیشنل ایرپورٹ پہونچا۔ تلنگانہ کےحجاج جملہ 23 قافلوں کے ذریعہ حجاج کرام کی واپسی عمل میں آئے گی اور آخری قافلہ 23 جون کی رات دیر گئے ایک بجے حیدرآباد پہونچے گی۔
واضح رہے کہ حیدرآباد امبارکیشن پوائنٹ سے جملہ 9685 حجاج کرام کی روانگی عمل میں آئی جن میں تلنگانہ حج کمیٹی کے 6646 حجاج کرام شامل ہیں۔ آندھراپردیش کے 1200، کرناٹک 1082، مہاراشٹرا 560 ، اڈیشہ 94 ، چھتیس گڑھ 42 اور بہار کے 28 عازمین حج حیدرآباد سے روانہ ہوئے۔ حجاج کرام کے قافلوں کی واپسی کے ساتھ ہی حج 2027ء کے لئے درخواستوں کے ادخال کا عمل شروع ہوگا۔
حج اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک اہم رکن ہے اور ہر سال دنیا بھر سے لاکھوں مسلمان فریضۂ حج کی ادائیگی اور مقدس مقامات کی زیارت کے لیے سعودی عرب کا رخ کرتے ہیں۔ حج کی ادائیگی کے بعد بحفاظت وطن واپسی ہر حاجی اور اس کے اہلِ خانہ کے لیے خوشی اور شکرگزاری کا ایک یادگار موقع ہوتا ہے۔