Thursday, February 12, 2026 | 24, 1447 شعبان
  • News
  • »
  • علاقائی
  • »
  • تلنگانہ میں بلدیاتی انتخابات کیلئے ووٹنگ کا آغاز

تلنگانہ میں بلدیاتی انتخابات کیلئے ووٹنگ کا آغاز

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Feb 11, 2026 IST

تلنگانہ میں بلدیاتی انتخابات کیلئے ووٹنگ کا آغاز
تلنگانہ میں بلدیاتی انتخابات کیلئے ووٹنگ کا آغاز ہوگیا ہے جو شام 5بجے تک چلے گا۔ ریاست بھر میں 116 میونسپلٹیوں اور 7 کارپوریشنوں میں کیلئے ووٹنگ ہورہی ہے۔ ووٹنگ کے عمل کو پرامن بنانے الیکشن کمیشن نے سخت سیکوریٹی انتظامات کئے ہیں۔ عہدیداروں نے  123 اربن بلدیاتی اداروں میں پرامن ماحول میں انتخابات کے انعقاد کے لئے تمام انتظامات کئے ہیں۔ اس الیکشن میں  52 لاکھ 17 ہزار 413 ووٹرز اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں گے۔ ان کے لیے 8,191 پولنگ اسٹیشن بنائے گئے ہیں۔ 
 
ریاستی الیکشن کمشنر رانی کمودینی نے کہا کہ انتخابات کے انعقاد کے لیے 1,379 ریٹرننگ افسران اور 41,773 پولنگ عہدیداروں کو تعینات کیاگیاہے۔  ان انتخابات میں جملہ 12 ہزار 944 امیدوار اپنی قسمت آزمارہے ہیں۔ نو بلدیات میں 14امیدوار پہلے ہی متفقہ طور پر منتخب ہو چکے ہیں۔ ان بلدیات میں  10,719 امیدوار میدان میں ہیں جن میں حکمراں کانگریس کے 2,358، بی آر ایس کے 2,478 اور بی جے پی کے 2,252 امیدوار شامل ہیں۔ اس دوران ایس ای سی نے مکتھل کے وارڈ نمبر 6 میں انتخابات کو ملتوی کردیا ہے کیونکہ یہاں  سے مقابلہ کرنے والے بی جے پی امیدوار نے خودکشی کرلی ہے۔ 
 
14 وارڈوں میں متفقہ طور پر نتیجہ اعلان کر دیا گیا
 
کل 12,944 امیدوار 2,981 وارڈوں میں انتخاب لڑ رہے ہیں۔ جن میں میونسپلٹیوں کے 2,569 وارڈوں میں 10,719 امیدوار اور میونسپل کارپوریشنز کے 412 وارڈوں میں 2,225 امیدوار شامل ہیں۔ میونسپل کارپوریشنز کے دو وارڈوں سمیت 14 وارڈوں میں انتخابات کو متفقہ طور پر اعلان کر دیا گیا ہے۔ ایک وارڈ میں امیدوار کی وفات کے باعث ووٹنگ ملتوی کر دی گئی ہے۔
 
بی جے پی، کانگریس اور بی آر ایس کے درمیان سخت مقابلہ
 
گزشتہ سال دسمبر میں گرام پنچایت انتخابات میں بڑی کامیابی کے بعد برسرِ اقتدار کانگریس ریاستی سیاست میں اپنی مضبوط پوزیشن کو مزید مستحکم کرنا چاہتی ہے، جبکہ بی جے پی کانگریس اور بھارت راشٹر سمیتی (بی آر ایس) دونوں کے لیے ایک قابل اعتماد متبادل کے طور پر ابھرنے کی امید کر رہی ہے۔ 2023 کے اسمبلی انتخابات اور 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں شکست کے بعد، بی آر ایس نے گرام پنچایت انتخابات میں اچھی کارکردگی دکھائی اور ریاست میں اپنی پوزیشن بہتر بنانے کے لیے میونسپل انتخابات میں بڑی جیت حاصل کرنے کی خواہشمند ہے۔
 
وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی  نے پیر کو کہا کہ کانگریس حکومت نے متعدد فلاحی پروگرام نافذ کیے ہیں، جن میں عوامی تقسیم کے نظام (پی ڈی ایس) کے تحت معیاری چاول کی فراہمی، آروگیہ شری صحت اسکیم، ریاستی بسوں میں خواتین کے لیے مفت سفر، اور غریبوں کے لیے 500 روپے میں ایل پی جی سلنڈر شامل ہیں۔ انہوں نے ہر میونسپلٹی کی ترقی کے لیے ماسٹر پلان تیار کرنے کا وعدہ بھی کیا۔