ایران نے کلسٹر بموں سے لیس خیبر شکن میزائلوں سے تل ابیت پر حملہ کردیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایران نے اسرائیل پر ایک ساتھ درجنوں ڈرونس اور میزائلو سے حملہ کیا ۔ حملے کے وقت تل ابیب میں سائرن بھی نہیں بجائے گئے ۔ پاسداران انقلاب بریگیڈئیر جنرل علی محمد نائینی نے کہا کہ ایران طویل جنگ کیلئے تیار ہے ۔ ایران نئی قسم کےاسٹراٹیجک ہتھیار متعارف کروانے والا ہے ۔ جو ابھی تک جنگ میں استعمال نہیں ہوے ہیں ۔
ساتھ ہی امریکہ کی جانب سے تیس سے زائد ایرانی بحری جہازوں کو ڈبو دینے یا تباہ کرنے کے دعوی کے بعد ایران نے بھی امریکہ کے بحری جہازوں کو نشانہ بنانا شروع کردیا ہے ۔ گزشتہ روز ایران یا اتحادی گروہوں کی جانب سے امریکی بحری جہاز یا طیارہ بردار جہاز پر حملے کے دعوے سامنے آئے۔جس میں ایران یا پاسدارانِ انقلاب نے امریکی بحری جہاز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
ایرانی ذرائع کے مطابق ڈرونز یا بیلسٹک میزائلوں کے ذریعے امریکی بحری جہاز وں کو ہدف بنایا گیا، جس کے بعد امریکی بحری دستے نے اپنے بحری بیڑے کو محفوظ دور تک پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کیا۔ یہ واقعہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کا حصہ ہے جہاں امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر جوابی دستاویزی یا فوجی حملے شروع کر رکھے ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
وہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی فوجی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کارروائی کے دوران ایران کی فوج، بحریہ اور فضائیہ کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا جبکہ کئی اعلیٰ عسکری رہنما بھی ہلاک ہوگئے ہیں ۔ صدر ٹرمپ کے مطابق اس کارروائی میں ایران کے 32 جنگی جہاز سمندر میں ڈبو دیے گئے۔ جس کے نتیجے میں ایرانی بحری طاقت کو بڑا دھچکا لگا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اور اس کے اتحادی خطے میں اپنی سکیورٹی اور مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کریں گے۔