17رمضان المبارک اسلامی تاریخ کا وہ عظیم دن،جسے قرآن نے یوم الفرقان کہا،جو حق اور باطل کی پہچان بنا،یہ وہ دن تھاجب جنگ بدر میں صرف 313 مسلمان ایمان اور یقین کے ساتھ کھڑے تھے۔اور سامنے کفار مکہ کاایک ہزار کا لشکر، جو جنگی ہتھیاروں سے لیس تھا،ظاہری طاقت بہت زیادہ تھی۔
مگر اہلِ ایمان کے دلوں میں اللہ پر کامل یقین تھا۔پھر وہ لمحہ آیا،جب اللہ کی مدد نازل ہوئی،فرشتے مدد کے لیے آئےاور مٹھی بھر مسلمانوں کوتاریخی فتح نصیب ہوئی۔اسی لیے17 رمضان المبارک کویومُ الفرقان کہا جاتا ہےیعنی وہ دن جب حق اور باطل کے درمیان واضح فیصلہ ہو گیا۔
بتا دیں کہ جب کفار مکہ نے مسلمانوں پر ظلم و بربریت کے پہاڑ توڑے اور ان کو معاشی اور سماجی طور پر استحصال کا نشانہ بنانے لگا تو نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اور صحابہ کرام نے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی ۔
مگر اس دوران کفار مکہ جنکے دلوں میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کم ہونے کے بجائے دن بدن بڑھتی رہی وہ ان کے خلاف جنگ کی تیاری کی اور ایک ہزار کی تعداد پر مشتمل لشکر لے کر ان کی طرف روانہ ہو گئے جب نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع ملی تو آپ اپنے مصاحب کے ہمراہ میدان بدر کی طرف روانہ ہوئے جو کہ مدینہ سے تقریبا 130 کیلومٹر کے فاصلے پر واقع ہے اس وقت مسلمانوں کی تعداد 313 تھی اور انہیں جنگی ساز و سامان مکمل طور سے دستیاب نہیں تھے ۔
مسلمانوں کی مٹھی بھر جماعت ہزار افراد پر مشتمل جنگی اسلحہ سے لیس کفار مکہ کے مقابل میدان جنگ میں صف آرا ہوئی اور فتح و نصرت سے ہمکنار ہوئی اور باطل طاقتوں کو خاک میں ملادیا یہی وہ جنگ ہے جسے ہم غزوہ بدر کے نام سے جانتے ہیں یہ اسلام کا پہلا معرکہ تھا۔
دوسری جانب کفار مکہ کے پاس ہر طرح کے جنگی ہتھیار اور بھر پور مقدار میں خوراک موجود تھے۔2ہجری 17 رمضان المبارک کو دونوں کے درمیان جنگ ہوئی اور اللہ مسلمانوں کو فتح عطا کی کفار کی جانب سے 70 افراد قتل ہوئے اور 70 افراد قید ہوئے اور باقی میدان جنگ سے فرار ہو گئے ۔
وہیں مسلمانوں میں 14 مجاہدین نے شہادت حاصل کی،جسکے بعد سے تاریخ نے اس معرکہ کو اپنے دامن میں رقم کیا جس کی مثال پیش کرنے سے آج بھی دنیا قاصر ہے۔ اس جنگ نے حق اور باطل کے درمیان واضح فیصلہ کر دیا۔