Saturday, March 07, 2026 | 17 رمضان 1447
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • کیا سعودی عرب اور پاکستان ایران پر کریں گے حملہ ؟ سعودی وزیر دفاع سے عاصم منیر کی ملاقات

کیا سعودی عرب اور پاکستان ایران پر کریں گے حملہ ؟ سعودی وزیر دفاع سے عاصم منیر کی ملاقات

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Sahjad Alam | Last Updated: Mar 07, 2026 IST

کیا سعودی عرب اور پاکستان ایران پر کریں گے حملہ ؟ سعودی وزیر دفاع سے عاصم منیر کی ملاقات
اسرائیل اور امریکہ نے گزشتہ ہفتہ 28 فروری کو ایران پر حملہ کیا، جس کے بعد ایران مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور دیگر ٹھکانوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اسرائیل پر بھی میزائلوں کی بارش ہو رہی ہے۔ اس دوران سعودی عرب کے وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل آصف منیر سے بات چیت کی اور ایران کی طرف سے سعودی عرب پر کیے جا رہے ڈرون اور میزائل حملوں پر تبادلہ خیال کیا۔ اس بات چیت کے بعد یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کیا سعودی عرب پاکستان کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف حملے کرنے کا سوچ رہا ہے۔
 
سعودی عرب کے وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے ہفتہ 7 مارچ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر لکھا: "ہم نے مملکت پر ایرانی حملوں اور ہمارے جوائنٹ اسٹریٹجک ڈیفنس ایگریمنٹ کے فریم ورک کے اندر انہیں روکنے کے لیے ضروری اقدامات پر بات چیت کی۔" انہوں نے مزید لکھا: "ہم نے اس بات پر زور دیا کہ ایسی حرکتیں علاقائی سلامتی اور استحکام کو کمزور کرتی ہیں اور امید ظاہر کی کہ ایرانی فریق عقلمندی سے کام لے گا اور غلط اندازہ لگانے سے بچے گا۔"
 
خیالرہے کہ گزشتہ سال سعودی عرب اور پاکستان نے ایک سیکیورٹی معاہدہ کیا تھا، جس کے تحت اگر دونوں ممالک میں سے کسی ایک پر حملہ ہوتا ہے تو اسے دونوں ممالک پر حملہ سمجھا جائے گا۔ اس کے علاوہ اس حملے کا جواب دونوں ممالک مل کر دیں گے۔ اب ایران کی طرف سے سعودی عرب میں امریکی اڈوں پر حملوں کے بعد سعودی عرب کے وزیر دفاع اور پاکستان آرمی چیف آصف منیر کے درمیان اس معاہدے کے فریم ورک میں بات چیت ہوئی۔
 
 اسی کو لے کر یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر ایران سعودی عرب میں ڈرون اور میزائلوں سے حملے بند نہیں کرتا تو ایران کے خلاف پاکستان اور سعودی عرب مشترکہ فوجی کارروائی شروع کر سکتے ہیں۔ تاہم ایران کا کہنا ہے کہ وہ سعودی عرب سمیت کسی بھی پڑوسی ملک کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتا، بلکہ اس ملک میں موجود امریکی ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔