امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز کہا کہ ہفتے کے اوائل میں روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ ان کی "بہترین" گفتگو ہوئی۔ ٹرمپ کے مطابق، پوتن یوکرین میں جاری جنگ ختم کرنے کے لیے معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔ ریپبلکن نیشنل کنونشن کے لیے ڈیلاس روانہ ہونے سے قبل ایئر فورس ون میں سوار ہوتے وقت ٹرمپ نے صحافیوں سے کہا کہ پوتن معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر یوکرینی صدرزیلینسکی بھی معاہدہ کرنا چاہےتو یہ بہت اچھی بات ہوگی۔
ٹرمپ نے منگل کے روز پوتن سے فون پر بات کی تھی۔ یہ گفتگو امریکی خصوصی سٹیو وٹکوف اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کے ماسکو اور کیئو کے دورے سے واپسی کے فوراً بعد ہوئی۔ دونوں امریکی نمائندے جنگ ختم کرنے کے لیے ممکنہ تجاویز پر بات چیت کے لیے روس اور یوکرین گئے تھے۔
گزشتہ ماہ سینٹرل انٹیلیجنس ایجنسی (CIA) کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف نے ماسکو میں روسی انٹیلیجنس حکام سے ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات کا ایک مقصد روسی حکام کو جنگ ختم کرنے پر آمادہ کرنا بھی تھا۔
ان کوششوں اور ٹرمپ کے بیانات کے باوجود امریکہ، یوکرین اور یورپ کے انٹیلیجنس حکام اب بھی اس بارے میں شکوک رکھتے ہیں کہ پوتن واقعی جاری جنگ ختم کرنا چاہتے ہیں یا نہیں۔ روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ چار سال سے جاری ہے۔
ٹرمپ نے پوتن اور زیلینسکی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امن معاہدے میں سب سے بڑی رکاوٹ "دو لوگ ہیں جو ایک دوسرے سے نفرت کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کے خیال میں سب سے بڑھ کر مسئلہ انہی دو افراد کا ہے جو ایک دوسرے سے نفرت کرتے ہیں۔
پوتن کے ساتھ ماسکو میں ہونے والی ملاقات تقریباً تین گھنٹے جاری رہی۔ روسی حکام نے اسے مفید قرار دیا، لیکن اس ملاقات سے جنگ ختم کرنے کے لیے کوئی ٹھوس معاہدہ سامنے نہیں آیا۔
امریکی نمائندے سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے ماسکو میں پوتن سے ملاقات کے بعد کیئو میں زیلینسکی سے بھی ملاقات کی تھی۔ یہ وٹکوف اور کشنر کا ٹرمپ کے دوسری بار صدر بننے کے بعد یوکرین کا پہلا دورہ تھا۔ کیئو میں زیلینسکی کے ساتھ ملاقات کے بعد بھی امن معاہدے کی طرف کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہوئی۔ امریکی نمائندوں نے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی امید ظاہر کی.زیلینسکی نے مذاکرات کے دوران یوکرین کے لیے فضائی دفاعی نظام، خاص طور پر پیٹریاٹ میزائلوں، کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے سردیوں کے لیے توانائی اور دفاعی مدد کے ایک پیکیج کی بھی بات کی۔
ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ سردیوں کے دوران روس اور یوکرین کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے اقدامات پر بھی غور کر رہا ہے تاکہ بڑے امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی راہ ہموار ہو سکے۔