Thursday, September 10, 2026 | 26 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • سیاست
  • »
  • ایران مزید مقابلہ نہیں کر سکتا، ٹرمپ کا دعویٰ

ایران مزید مقابلہ نہیں کر سکتا، ٹرمپ کا دعویٰ

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: Sep 10, 2026 IST

ایران مزید مقابلہ نہیں کر سکتا، ٹرمپ کا دعویٰ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ امریکہ میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے فوراً بعد ختم ہو جائے گی۔ ٹرمپ نے الزام لگایا کہ ایران امریکی انتخابات تک جنگ جاری رکھنا چاہتا ہے، تاکہ انتخابات کے بعد آنے والی حکومت اس کے ساتھ نرم رویہ اختیار کرے اور اسے جوہری ہتھیار بنانے کا موقع مل سکے۔
 

ایران انتخابات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہا ہے

ٹرمپ نے ٹیکساس کے شہر ڈیلاس میں ریپبلکن پارٹی کے وسط مدتی کنونشن کے لیے روانہ ہونے سے قبل صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران امریکی انتخابات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کے مطابق ایران چاہتا ہے کہ امریکہ میں ایسی حکومت آئے جو اس کے ساتھ نرم رویہ اختیار کرے اور اسے جوہری ہتھیار بنانے کی اجازت دے۔
 
ٹرمپ نے کہا، ’’میرا خیال ہے کہ انتخابات کے فوراً بعد جنگ ختم ہو جائے گی۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ایران انتخابات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ امریکہ میں ایک ایسی کمزور حکومت آ جائے جو اسے اپنے حال پر چھوڑ دے اور اسے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا موقع دے۔ جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ انہیں کیوں یقین ہے کہ انتخابات کے فوراً بعد جنگ ختم ہو جائے گی تو انہوں نے کہا کہ ایران اب مزید مقابلہ نہیں کر سکتا۔ ٹرمپ نے کہا کہ ایران صرف جوہری ہتھیار حاصل کرنا چاہتا ہے اور اگر اسے جوہری ہتھیار مل گیا تو پوری دنیا کے لیے شدید خطرہ پیدا ہو جائے گا۔
 

امریکہ ایران مذاکرات پر ٹرمپ کا موقف

ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ اس وقت ایران کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا خواہش مند نہیں ہے۔ ان کے مطابق، شروع میں وہ ایران کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتے تھے، لیکن اب حالات بہت آگے بڑھ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے پاس اب ملک کا بہت کم حصہ بچا ہے، اس لیے امریکہ مذاکرات کے لیے جلدی میں نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مذاکرات ممکن ہیں، لیکن فی الحال امریکہ انہیں دوبارہ شروع کرنے پر غور نہیں کر رہا۔
 
ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ ہونے والا ممکنہ معاہدہ صرف جوہری معاملے تک محدود نہیں ہوگا بلکہ اس میں دیگر معاملات بھی شامل ہوں گے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ جوہری معاہدہ ہونے کا امکان 99.9 فیصد ہے، مذاکرات کی میز پر کئی دیگر معاملات بھی زیرِ بحث آئیں گے جو تین ماہ پہلے موجود نہیں تھے۔
 

ایرانی ٹینکرز کے خلاف مزید کاروائی کی دھمکی

ٹرمپ نے ایران کے ٹینکرز کے خلاف امریکی کاروائیوں کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے ایران کے تقریباً نو جہازوں کو نشانہ بنایا ہے اور ان میں سے کئی مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔ انہوں نے مزید کاروائیوں کا اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ آنے والے دنوں میں مزید حملے دیکھنے کو مل سکتے ہیں۔
 

3 نومبر کو ہوں گے وسط مدتی انتخابات

امریکہ میں وسط مدتی انتخابات 3 نومبر کو ہوں گے۔ ان انتخابات میں ایوان نمائندگان کے تمام 435 ارکان اور سینیٹ کے کچھ ارکان کا انتخاب کیا جائے گا۔ ان انتخابات کے نتائج سے یہ طے ہوگا کہ امریکی کانگریس میں کس جماعت کو اکثریت حاصل ہوگی اور ٹرمپ اپنی حکومت کے ایجنڈے کو کس حد تک آگے بڑھا سکیں گے۔ انتخابات میں ایران کے ساتھ جاری جنگ اور بڑھتی مہنگائی بھی اہم مسائل ہوں گے، جن کا اثر ووٹرز کے فیصلے پر پڑ سکتا ہے۔
 
امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ جنگ ختم ہونے کے بعد انتخابات کے فوراً بعد تیل کی قیمتیں بھی نیچے آ سکتی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ فی الحال امریکہ ایران کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے جلدی میں نہیں ہے۔
 
ایران کے ساتھ جنگ اب ساتویں ماہ میں داخل ہو چکی ہے۔ ٹرمپ کے دعوے کے باوجود جنگ ختم ہونے کے فوری آثار نظر نہیں آ رہے اور خطے میں کشیدگی بدستور جاری ہے۔ آبنائے ہرمز میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ ایران نے وہاں 10 بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا، جبکہ امریکہ نے پانچ ایرانی تیل بردار جہازوں کو تباہ کرنے کی کاروائی کی۔
 
جنگ کے باعث عالمی تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہیں۔ آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل متاثر ہونے کے خدشات نے عالمی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔جنگ کا اثر امریکی عوام پر بھی پڑ رہا ہے۔ تیل، پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی کا دباؤ بڑھ رہا ہے، جس سے وسط مدتی انتخابات سے پہلے ٹرمپ انتظامیہ پر سیاسی دباؤ بھی بڑھا ہے۔
 
امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات فوری طور پر دوبارہ شروع ہونے کے امکانات کم ہیں۔ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ اس وقت ایران کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کے لیے کوشش نہیں کر رہا، انہوں نے مذاکرات کے امکان کو مکمل طور پر مسترد بھی نہیں کیا۔