Wednesday, February 11, 2026 | 23, 1447 شعبان
  • News
  • »
  • سیاست
  • »
  • سی آرپی ایف رامپورحملہ کیس: یوپی حکومت پہنچی سپریم کورٹ،جمعیۃ علماء ملزمین کے دفاع میں ہوگی پیش

سی آرپی ایف رامپورحملہ کیس: یوپی حکومت پہنچی سپریم کورٹ،جمعیۃ علماء ملزمین کے دفاع میں ہوگی پیش

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Feb 11, 2026 IST

سی آرپی ایف رامپورحملہ کیس: یوپی حکومت پہنچی سپریم کورٹ،جمعیۃ علماء ملزمین کے دفاع میں ہوگی پیش
سی آر پی ایف رامپور مقدمہ میں نچلی عدالت سے چار ملزمین کو ملنے والی پھانسی کی سزا کو گذشتہ ماہ الہ آباد ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ نے ختم کردیا تھا، عدالت نے ایک ملزم کو ملنے والی عمر قید کی سزا کو بھی تبدیل کردیا تھا۔ الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو اتر پردیش سرکار نے سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا ہے۔
 
اترپردیش حکومت کی جانب سے داخل پٹیشن پر آج سپریم کورٹ آف انڈیا کی دو رکنی بینچ کے جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ کی بینچ نے سماعت کی اور دوران سماعت عدالت نے زبانی طور پر کہا کہ الہ آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ درست معلوم ہوتا ہے۔ اتر پردیش سرکار کی نمائندگی کرتے ہوئے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل نے عدالت سے گذارش کی کہ وہ ان کی پٹیشن کی سماعت کے لیئے قبول کرے، وہ عدالت کے سامنے اس مقدمہ متعلق اہم دستاویزات پیش کرنا چاہتے ہیں جسے الہ آباد ہائی کورٹ نے قبول نہیں کیا ہے، یہ ایک غیر معمولی دہشت گردانہ واقعہ ہے لہذا مقدمہ کی سنگینی کے مد نظر ریاستی سرکار کی اپیل کو سماعت کے لیئے قبول کیا جائے۔
 
 جمعیۃ علماء مہاراشٹر(ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کی جانب سے ملزمین کے مقدمہ کی پیروی کرتے ہوئے ایڈوکیٹ ایم ایس خان نے عدالت کو بتایا کہ الہ آباد ہائی کورٹ نے فریقین کے دلائل کی کئی ماہ تک سماعت اور پھر اس کے بعد فیصلہ صادر کیا، اس مقدمہ میں کوئی بھی عینی گواہ نہیں ہے، استغاثہ کے گواہان کے بیانات میں کھلا تضاد ہے جس کا فائدہ الہ آباد ہائی کورٹ نے ملزمین کو دیا ہے۔

3 مارچ کوسماعت

اسی درمیان فریقین کے دلائل کی سماعت کے بعد دورکنی بینچ نے ریاستی حکومت کی پٹیشن کو سماعت کے لیئے قبول کرلیا اور ملزمین کو حکم دیا کہ وہ مقدمہ کی اگلی سماعت سے قبل ریاستی سرکار کی پٹیشن پر اپنا اعتراض داخل کریں۔ اس مقدمہ کی اگلی سماعت عدالت 3/ مارچ2026/  کو کریگی۔
 
الہ آباد ہائی کورٹ نے نچلی عدالت سے پھانسی کی سزا پانے والے ملزمین عمران شہزاد،محمد فاروق صباح الدین اور محمد شریف کو سزائے موت کو ختم کردیا تھا جبکہ جنگ بہادر کو ملنے والی عمر قید کی سزا کو بھی ہائی کورٹ نے ختم کردیا تھا۔الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو ریاستی حکومت نے سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا ہے۔
 
ملزمین نے بھی الہ آباد ہائی کورٹ کی جانب سے آرمس ایکٹ کے تحت انہیں دی جانے والی دس سالوں کی سزا کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے، ملزمین کی اپیل پر جلد سماعت متوقع ہے۔ جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی کے توسط سے ملزمین نے سپریم کورٹ آف انڈیا میں پٹیشن داخل کی ہے۔