Saturday, October 24, 2026 | 12 جمادى الأولى 1448
  • News
  • »
  • علاقائی
  • »
  • آندھرا کی سیاست میں مجلس کی آمد سے سیاسی ہلچل۔ 21سیٹوں پر قسمت آزمائی

آندھرا کی سیاست میں مجلس کی آمد سے سیاسی ہلچل۔ 21سیٹوں پر قسمت آزمائی

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: 24 Oct 2026

آندھرا کی سیاست میں مجلس کی آمد سے سیاسی ہلچل۔ 21سیٹوں پر قسمت آزمائی
اے پی بلدیاتی انتخابات میں ایم آئی ایم  کی انٹری 
مجلس نے کل 21 سیٹوں پر امیدوار کھڑے کیے ہیں
کڑپہ میئر اور ہندو پور چیئرپرسن کے عہدوں کے لیے مقابلہ
جیتنے کا امکان جہاں ہو صرف وہاں لڑنےاویسی کا مشورہ 
مجلس کےایم ایل ایزکی آندھراپردیش میں انتخابی مہم 
 
آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) پارٹی نے آندھراپردیش کے میونسپل انتخابات میں حصہ لیا ہے۔ مجلس نے ریاست میں دو کارپوریشنوں اور پانچ میونسپلٹیوں میں  جملہ 21 امیدوار کھڑے کیے ہیں۔
 
بتایا جا رہا ہےکہ اے آئی ایم آئی ایم کے امیدواروں نے کڑپہ کارپوریشن کے میئر اور ہندو پور میونسپلٹی کے چیئرپرسن کے عہدوں کے لیے نامزدگی داخل کی ہیں۔ اس کے علاوہ، ایم آئی ایم  نے وجئے واڑہ کارپوریشن کے تین ڈویژنوں، ہندو پور کے پانچ وارڈوں، ادونی میں سات، رایا درگ میں تین، اور نندیال اور پینوگونڈہ میونسپلٹی کے ایک ایک وارڈ میں  پارٹی امیدوار کھڑے کیے ہیں۔
 
حال ہی میں، آندھراپردیش کے اے آئی ایم آئی ایم قائدین نے حیدرآباد میں پارٹی صدر بیر سٹر  اسد الدین اویسی سے ملاقات کی۔ اس موقع پر انہوں نے مشورہ دیا کہ پارٹی وسیع پیمانے پر الیکشن لڑنے کے بجائے ان وارڈز اور ڈویژنوں پر توجہ مرکوز کرے جہاں جیتنے کے امکانات قوی ہوں۔ 
 
پارٹی کی توسیع کی کوششوں کے ایک حصے کے طور پر، حیدرآباد میں مقیم ایم آئی ایم ایم ایل ایز جعفر حسین معراج، محمد مبین، ماجد حسین، اور ایم ایل سی ریاض الحسن آفندی آندھراپردیش میں انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔ پارٹی نے ان انتخابات کو آندھرا پردیش کے بلدیاتی انتخابات میں اپنی موجودگی کو بڑھانے کے لیے ایک باوقار موقع  سمجھا ہے۔
 
 واضح رہےکہ آندھراپردیش میں  لوکل باڈی الیکشن کی دھوم ہے۔ ایم پی ٹی سی، زیڈ پی ٹی سی، اربن میونسپل کارپوریشن ،  کے پرچہ نامزدگیوں کےادخال کےدوران،  حکمراں اتحاد این ڈی اے، اور اپوزیشن وائی ایس آر سی پی، کےدرمیان  گھمسان دیکھا جا رہا ہے۔ انتخابی تشدد کے معاملے سامنے آئےہیں۔ معاملے عدالت میں بھی پہنچا ہے۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے پر ریاستی الیکشن کمیشن کو ہدایت دی ہے۔ ریاستی الیکشن کمیشن  نے پولنگ کو ری شیڈول کیا ہے۔ 
 
 
انتخابی اعلامیہ سے پہلے یہ معاملہ  بی سی ریزرویشن معاملے پر سپریم کورٹ میں تھا۔ سپریم کورٹ نے 50 فیصد سے زائد ریزرویشن  کی اجازت نہیں دی۔ لیکن حکمراں اتحاد نےاپنے طور پر پسماندہ طبقات کو ریزرویشن دینے کا اعلان کیا ہے۔