دہلی میں انڈیا گیٹ کے قریب انکیتا بھنڈاری کے قتل کے معاملے میں انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے رات بھر احتجاج کیا گیا۔ اس دوران دہلی پولیس نے انکیتا کے والدین، کئی اپوزیشن لیڈروں اور دیگر مظاہرین کو حراست میں لے لیا۔ تاہم، انہیں کچھ دیر حراست میں رکھنے کے بعد صبح 5 بجے رہا کر دیا گیا۔ اس کارروائی پر کانگریس نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے بے بس والدین کے خلاف ظالمانہ کارروائی قرار دیا ہے۔
انکیتا بھنڈاری کے والدین انڈیا گیٹ کے قریب احتجاج کر رہے تھے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ ان کی بیٹی کے قتل کے معاملے میں سی بی آئی کی تحقیقات مکمل ہونے تک دشینت کمار گوتم کی سکم کے گورنر کے طور پر تقرری کو روک دیا جائے۔ والدین کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹی کو انصاف ملنا چاہیے اور اس معاملے کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں۔ اسی مطالبے کو لے کر وہ احتجاج کر رہے تھے۔ اس دوران کئی اپوزیشن لیڈر بھی ان کے ساتھ موجود تھے۔ احتجاج کے دوران پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مظاہرین کو حراست میں لے لیا، لیکن صبح 5 بجے انہیں رہا کر دیا گیا۔
انکیتا بھنڈاری اتراکھنڈ کی رہنے والی تھیں اور ریاست کے ضلع پوڑی گڑھوال کے علاقے گنگا بھوگپور میں واقع وننترا ٹورسٹ ریزورٹ میں ریسپشنسٹ کے طور پر کام کرتی تھیں۔ ستمبر 2022 میں ان کا قتل کر دیا گیا تھا۔ اس واقعے کے بعد اتراکھنڈ میں بڑے پیمانے پر غم و غصہ دیکھا گیا تھا۔ انکیتا کے قتل کا معاملہ وقتاً فوقتاً خبروں میں آتا رہا ہے اور ان کے اہل خانہ انصاف کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ اب ان کے والدین نے سی بی آئی تحقیقات مکمل ہونے تک دشینت کمار گوتم کی گورنر کے عہدے پر تقرری روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔
کانگریس نے انکیتا کے والدین کو حراست میں لیے جانے کی مذمت کی ہے۔ پارٹی نے اس کارروائی کو بے بس والدین کے خلاف ظالمانہ قدم قرار دیا۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ اپنی بیٹی کے قتل کے معاملے میں انصاف کا مطالبہ کرنے والے والدین کے ساتھ اس طرح کا سلوک افسوس ناک ہے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر انکیتا بھنڈاری کے قتل اور ان کے اہل خانہ کی جانب سے انصاف کے مطالبے کو بحث کا موضوع بنا دیا ہے۔ والدین کا احتجاج اس بات پر مرکوز ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے تک گورنر کی تقرری روکی جائے۔ دوسری جانب پولیس کی جانب سے مظاہرین کو حراست میں لینے کے بعد ان کی رہائی بھی اس معاملے کا اہم پہلو بن گئی ہے۔ انکیتا کے اہل خانہ کا مطالبہ ہے کہ ان کی بیٹی کے قتل کی تحقیقات مکمل کی جائیں اور انہیں انصاف ملے۔






