بہار کے ویشالی ضلع میں دریائے گنگا میں کشتی الٹنے کے حادثے میں 13 بچوں کی موت ہو گئی، جبکہ 6 افراد کو زندہ بچا لیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق، حادثے کے بعد جاری تلاش اور بچاؤ کا آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے۔ اس افسوس ناک واقعے نے علاقے میں غم کی لہر دوڑا دی ہے۔ مرنے والے تمام بچوں کی عمریں 15 سال سے کم تھیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں 9 بچیاں بھی شامل ہیں۔ اس حادثے میں تین بہنوں کی بھی موت ہو گئی، جن کی عمریں 10 سے 13 سال کے درمیان بتائی گئی ہیں۔
ضلع مجسٹریٹ ورشا سنگھ کے مطابق، کشتی میں رام پور شیام چند گاؤں کے تقریباً 20 افراد سوار تھے۔ یہ لوگ دریائے گنگا کے راستے قریبی علاقے میں ایک دعوت میں شرکت کے لیے جا رہے تھے، لیکن راستے میں کشتی الٹ گئی اور کئی افراد دریا میں ڈوب گئے۔ حادثے کی اطلاع ملنے کے بعد امدادی کارروائی شروع کی گئی۔ ریسکیو ٹیموں نے دریا میں تلاش کا کام کیا اور 6 افراد کو زندہ بچانے میں کامیابی حاصل کی، جبکہ 13 افراد کی موت کی تصدیق کی گئی۔ حادثے میں کم عمر بچوں کی بڑی تعداد میں ہلاکت کے باعث مقامی لوگوں میں شدید غم و افسوس پایا جا رہا ہے۔
ضلع مجسٹریٹ ورشا سنگھ نے بتایا کہ واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے تاکہ حادثے کی وجوہات کا پتا لگایا جا سکے اور ذمہ داری طے کی جا سکے۔ حکام کے مطابق، کشتی گاؤں والوں نے نجی طور پر کرائے پر لی تھی۔ تاہم، واقعے کے بعد انتظامی سطح پر بھی کارروائی کی گئی ہے۔ راگھو پور تھانے کے اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) اور متعلقہ سرکل افسر کو وجہ بتاؤ نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ ان افسران سے وضاحت طلب کی گئی ہے کہ وہ رات کے وقت اتنی بڑی تعداد میں بچوں کو کشتی کے ذریعے خطرناک سفر کرنے سے روکنے میں کیوں ناکام رہے۔ اب تحقیقات کے دوران حادثے سے متعلق تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا۔
آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو نے اس حادثے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کی اور انہیں ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ اس حادثے میں کم عمر بچوں کی موت نے کئی خاندانوں کو غم میں مبتلا کر دیا ہے۔ اب سب کی نظریں تحقیقات پر ہیں، تاکہ حادثے کی اصل وجہ سامنے آ سکے اور یہ معلوم ہو سکے کہ حفاظتی انتظامات میں کہاں کوتاہی ہوئی۔






